جنازے بھی تاریخ لکھتے ہیں

تاریخ صرف جنگوں، فتوحات، انقلاب اور معاہدوں سے نہیں بنتی۔ بعض اوقات ایک جنازہ بھی تاریخ کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ کچھ


زاہدہ حنا July 08, 2026

تاریخ صرف جنگوں، فتوحات، انقلاب اور معاہدوں سے نہیں بنتی۔ بعض اوقات ایک جنازہ بھی تاریخ کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ کچھ جنازے خاموشی سے چند سو لوگوں کی موجودگی میں قبرستان کی مٹی اوڑھ لیتے ہیں اور وقت کے بے رحم بہاؤ میں گم ہوجاتے ہیں مگر کچھ جنازے ایسے ہوتے ہیں جو شہروں، بستیوں اور نسلوں کے حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ان میں شریک لوگ صرف ایک انسان کو سپردخاک کرنے نہیں جاتے بلکہ اپنے عہد، اپنے دکھ، اپنی وابستگی، اپنے یقین اور اپنی اجتماعی یادداشت کی گواہی دینے بھی نکلتے ہیں۔ ایسے لمحوں میں ایک جنازہ محض تدفین کی رسم نہیں رہتا بلکہ تاریخ کے اوراق پر ثبت ہونے والا ایک ایسا واقعہ بن جاتا ہے جس کی بازگشت برسوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

آج ایران کی سڑکوں پر امڈنے والے انسانوں کے اس سمندر کو دیکھ کر دل بار بار تاریخ کے دریچوں میں جھانکنے لگتا ہے۔ تہران سے قم، قم سے مشہد اور پھر مختلف شہروں تک جاری یہ سفر محض ایک تدفین نہیں ہے، یہ ایک ایسا منظر ہے جو آنے والے برسوں میں تاریخ نویسوں، سماجیات کے طالب علموں اور سیاست کے مبصرین کو سوچنے پر مجبور کرے گا کہ آخر کون سی قوت تھی جس نے اتنے انسانوں کو ایک ساتھ ایک غم میں جوڑ دیا۔

کسی کے نزدیک یہ ایک مذہبی رہنما کی رخصتی ہے، کسی کے نزدیک ایک انقلابی عہد کا اختتام اور کسی کے نزدیک ایک متنازعہ سیاسی شخصیت کا آخری سفر۔ تاریخ ان تمام زاویوں کو محفوظ رکھے گی۔ مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عوام کی اتنی بڑی تعداد کا شریک ہونا بذاتِ خود ایک تاریخی واقعہ ہے۔

ان سارے مناظر کے بیچ مجھے کربلا یاد آئی۔کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تاریخ کی سب سے بڑی جنگ ظالم اور مظلوم کے درمیان ہوتی ہے۔ کربلا میں بظاہر اقتدار یزید کے پاس تھا، محل اس کے تھے، خزانہ اس کے پاس تھا، لشکر اس کے ساتھ تھا مگر تاریخ نے فیصلہ اس کے حق میں نہیں دیا۔

صدیوں بعد بھی کروڑوں انسان حسین ابن علیؓ کا نام احترام، محبت اور عقیدت سے لیتے ہیں جب کہ ظلم کی علامتیں نفرت اور عبرت کا استعارہ بن چکی ہیں۔ یہی کربلا کا سب سے بڑا سبق ہے کہ طاقت وقتی ہو سکتی ہے مگر اخلاقی فتح ہمیشہ انسانیت کے حصے میں آتی ہے۔ اسی لیے کربلا صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں، انسانی ضمیر کی سب سے بڑی آواز ہے۔ جہاں کہیں بھی ظلم اور مزاحمت آمنے سامنے ہوں، کربلا اپنی پوری معنویت کے ساتھ موجود ہوتی ہے۔ اس کا تعلق کسی ایک قوم، کسی ایک مسلک یا کسی خاص جغرافیہ سے نہیں، وہ ہر اس انسان کی میراث ہے جو جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔

ایران کے آج کے حالات کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ کسی شخصیت سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ لیکن جب لاکھوں انسان کسی رہنما کو رخصت کرنے کے لیے گھروں سے نکلتے ہیں تو یہ محض ایک سیاسی اجتماع نہیں رہتا بلکہ ایک سماجی حقیقت بن جاتا ہے۔ تاریخ ایسے مناظر کو نظرانداز نہیں کرتی۔ شاید ہمارے زمانے میں اتنے بڑے عوامی جنازوں کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر لوگ کیوں نکلتے ہیں؟ صرف ریاست کے حکم پر، صرف روایت کے تحت یا اس لیے کہ وہ اپنے دل کی کسی گہری وابستگی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، ان سوالوں کا جواب وقت دے گا مگر سوال اپنی جگہ باقی رہیں گے۔

دنیا بھر سے آنے والے سربراہانِ مملکت، وزرائے خارجہ، سفارت کار اور دیگر معزز شخصیات جب اس جنازے میں شریک ہوں گے تو شاید ان میں سے کچھ ایک لمحے کے لیے اپنے گریبان میں بھی جھانکیں۔ کیا ان کے اپنے ملک کے لوگ بھی ان کی رخصت پر اسی طرح گھروں سے نکلیں گے؟ کیا ان کے نام بھی محبت سے لیے جائیں گے؟ یا ان کی یاد صرف سرکاری پروٹوکول، محلات، بینک اکاؤنٹس اور اقتدار کی فائلوں تک محدود رہ جائے گی۔اقتدار کی کرسی انسان کو بہت کچھ دیتی ہے لیکن عوام کے دلوں میں جگہ نہیں دے سکتی۔ وہ جگہ صرف خدمت، دیانت، قربانی اور اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہنے سے حاصل ہوتی ہے۔

ہم ایک عجیب دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی باتیں ہو رہی ہیں، اربوں اور کھربوں ڈالر کی دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہے، دنیا کے امیر ترین انسانوں کی دولت کئی ملکوں کے سالانہ بجٹ سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن دوسری طرف بھوک، جنگ، بے گھری اور محرومی بھی اسی شدت سے موجود ہیں۔ ایسے میں کسی رہنما کی اصل میراث اس کی ذاتی دولت نہیں بلکہ وہ اعتماد ہے جو وہ اپنے لوگوں کے دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔کتنے ہی حکمران ایسے گزرے جنھوں نے سونے کے محل تعمیر کیے، اپنے نام کے مجسمے نصب کروائے، اپنی تصویریں ہر سرکاری دفتر میں آویزاں کیں مگر ان کے جانے کے بعد ان کے نام مٹ گئے۔ دوسری طرف ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس ذاتی دولت نہ تھی لیکن ان کے نام آج بھی دلوں میں چراغ کی طرح روشن ہیں۔

تاریخ کا سب سے بڑا انصاف یہی ہے کہ وہ آخری فیصلہ محلوں میں نہیں، عوام کے حافظے میں لکھتی ہے۔زندگی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنے بعد لوگوں کے دلوں میں کس صورت زندہ رہتا ہے۔ وہ دولت جو تجوریوں میں بند ہو، وہ اقتدار جو خوف کے سہارے قائم ہو اور وہ عظمت جو صرف پروٹوکول کی مرہونِ منت ہو، وقت کے ایک تھپیڑے سے بکھر جاتی ہے مگر وہ محبت جو عوام کے دلوں میں جگہ بنا لے اسے صدیوں کی گرد بھی دھندلا نہیں سکتی۔

کربلا میں صرف ایک معرکہ نہیں برپا ہوا تھا، وہاں انسانیت کے لیے ایک معیار قائم کیا گیا تھا۔ اس معیار پر ہر دور کے حکمران، ہر عہد کے انقلابی، ہر مذہبی پیشوا اور ہر صاحبِ اقتدار کو پرکھا جاتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کس کے پاس کتنی طاقت تھی بلکہ یہ بھی کہ وہ طاقت کس کے لیے استعمال ہوئی۔ کیا وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوا یا ظالم کے ساتھ؟ کیا اس نے انسان کو مقدم رکھا یا اقتدار کو۔زندگی ہمیں موقع دیتی ہے کہ ہم کس طرف ہیں، حق کے ساتھ یا پھر جھوٹ اور ظلم کے ساتھ۔ ہمیں اپنا راستہ خود متعین کرنا ہوتا ہے۔

 خامنہ ای صاحب کے جنازے میں جس طرح عام ایرانی اپنے غم کا اظہار کر رہا تھا اور جس طرح پوری دنیا ان کی شہادت پہ غمگین ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کے ساتھ کھڑا ہونے والا لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ ان کے جنازے میں جتنے لوگوں نے شرکت کی اس سے کہیں زیادہ لوگ ان کی تدفین میں متوقع ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ ایرانی عوام ان سے کتنی عقیدت رکھتی ہے۔