قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی کا اجلاس

آلو، زرعی برآمدات، گندم و آٹے کی صورتحال اور خیرپور میں کھجور کے ترقیاتی منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا


ویب ڈیسک July 08, 2026

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی کا اجلاس سید حسین طارق کی زیر صدارت ہوا، جس میں آلو کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل، زرعی برآمدات، گندم و آٹے کی صورتحال اور خیرپور میں کھجور کے ترقیاتی منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا۔

رکن کمیٹی رانا محمد حیات نے کہا کہ آلو کے کاشتکاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، حکومت نے کچھ نہیں کیا اور زمیندار تباہ ہو گیا۔ سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ روس نے پاکستان سے آلو کی درآمدات کے لیے ایکسپورٹرز کو رجسٹر کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، دونوں ممالک کے درمیان تمام قانونی معاملات طے پا چکے ہیں، جبکہ ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن کے مطابق روس پاکستان کے 100 سے زائد ایکسپورٹرز کو رجسٹر کرے گا۔ تاہم رانا محمد حیات نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام باتیں پرانی ہیں، نہ آلو کی قیمت میں اضافہ ہوا اور نہ ہی برآمدات شروع ہوئیں، جس سے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

اجلاس میں رکن کمیٹی ندیم عباس نے کہا کہ رواں سال آلو کی پیداوار کا ہدف زیادہ رکھا گیا ہے، اگر برآمدات نہیں ہونی تو پیداوار کم رکھی جائے تاکہ کاشتکاروں کو نقصان نہ ہو۔ چیئرمین کمیٹی نے پیداوار کے اعداد و شمار پر سوال اٹھایا، جس پر ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن نے بتایا کہ یہ ڈیٹا حکومت پنجاب نے فراہم کیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سیٹلائٹ کی مدد سے زیادہ درست ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ حکومت اضافی زرعی پیداوار کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے، مستند ڈیٹا کے لیے وزارت میں ایک ونگ قائم کیا جا رہا ہے اور وزیراعظم اس تجویز کی منظوری دے چکے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سید حسین طارق نے کہا کہ ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے جبکہ صوبائی حکومتیں گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت فوڈ سیکیورٹی کو ملک میں تمام غذائی اشیا کے معیار کو یقینی بنانے، ہر فصل، پیداوار اور برآمدی منڈی سے آگاہ رہنے اور بین الوزارتی و بین الصوبائی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلو کے کاشتکاروں کا مسئلہ اسمبلی میں اٹھائے جانے کے بعد وزارت نے اقدامات شروع کیے۔

اجلاس کے دوران رانا محمد حیات نے کہا کہ چینی کی اضافی پیداوار برآمد کی جا رہی ہے، تاہم سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی نے واضح کیا کہ فی الحال حکومت نے چینی کی برآمد کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ رکن کمیٹی سید جاوید علی شاہ جیلانی نے کہا کہ کمیٹی نے خیرپور میں کھجور کے لیے خصوصی ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی تھی، مگر اسے رواں سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں کیا گیا۔ چیئرمین پی اے آر سی نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے اس منصوبے کی منظوری نہیں دی۔ اس پر سید جاوید علی شاہ جیلانی نے احتجاجاً واک آؤٹ کا اعلان کیا، تاہم چیئرمین کمیٹی نے انہیں بائیکاٹ نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس معاملے پر وزارت منصوبہ بندی سے بریفنگ لی جائے گی۔