وزیراعلیٰ سندھ کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ساتھ اجلاس

اجلاس میں 140 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے پانچ بڑے شاہراہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا


ویب ڈیسک July 08, 2026

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے ساتھ اجلاس ہوا، اجلاس میں چیئرمین قائمہ کمیٹی سید عبدالقادر گیلانی کی زیرقیادت وفد میں کمیٹی کے ارکان ناز بلوچ، فرحان چشتی، سید سمیع الحسن گیلانی، اختر بی بی، ذوالفقار بچانی اور شبیر بجارانی بھی شامل تھے۔

اجلاس میں صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز حاجی علی حسن زرداری، سیکریٹری وزیراعلیٰ آصف جمیل، سیکریٹری ورکس نواز سوہو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

اجلاس میں 140 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے پانچ بڑے شاہراہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت پانچ اہم شاہراہ منصوبے جون 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔

منصوبوں میں سندھ کوسٹل ہائی وے، مہران ہائی وے، روہڑی گڈو روڈ، ٹنڈو الہٰیار، ٹنڈو آدم ڈوئل کیرج وے اور سانگھڑ، روہڑی روڈ شامل ہیں، پانچ منصوبوں کی مجموعی لاگت 140 ارب 91 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے۔

وفاق کا حصہ 96 ارب 75 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ سندھ حکومت کا حصہ 44 ارب 15 کروڑ 90 لاکھ روپے ہے، وزیراعلیٰ سندھ۔ نے کہا کہ 36 کلومیٹر طویل سندھ کوسٹل ہائی وے ایکسٹینشن منصوبے پر 37 ارب 70 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔

اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ سندھ کوسٹل ہائی وے منصوبے کا ورک آرڈر جاری کر دیا گیا، جبکہ ٹھیکیدار نے مشینری اور وسائل سائٹ پر منتقل کر دیے ہیں، 150 کلومیٹر طویل روہڑی گڈو بیراج روڈ منصوبہ 17 ارب 79 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔

حکام نے کہا کہ روہڑی گڈو روڈ منصوبے کے 44 کلومیٹر حصے پر اسفالٹ بیس کا کام مکمل کر لیا گیا، 31 اعشاریہ 4 کلومیٹر طویل ٹنڈو الہٰیار، ٹنڈو آدم ڈوئل کیرج وے منصوبے کی لاگت 9 ارب 28 کروڑ روپے ہے،  ٹنڈو الہٰیار، ٹنڈو آدم منصوبے پر پیش رفت جاری ہے، تاہم یوٹیلیٹی منتقلی، ٹرانسمیشن لائن اور پاکستان ریلوے کی منظوری بڑے چیلنج قرار دیے گئے۔

اجلاس کے مطابق 135 کلومیٹر طویل مہران ہائی وے ڈوئلائزیشن منصوبہ 41 ارب 3 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، 221 کلومیٹر طویل سانگھڑ، روہڑی روڈ منصوبے پر 35 ارب 8 کروڑ روپے لاگت آئے گی، 

سانگھڑ، روہڑی روڈ کے بڑے حصوں پر چوڑائی اور بیس ورک مکمل کر لیا گیا، جبکہ جلد اسفالٹ بچھانے کا کام شروع ہوگا،

وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ منصوبے صرف سڑکیں نہیں بلکہ معاشی راہداریاں ہیں، جو تجارت، سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ دیں گی، تمام رکاوٹیں، یوٹیلیٹی منتقلی، منظوریوں اور فنڈنگ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام کے منصوبوں کے لیے وفاقی فنڈز کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے سندھ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اقدامات کو سراہا اور وفاقی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، تمام وفاقی و صوبائی اداروں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل، فنڈز کے مؤثر استعمال اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔