’’والد ظلم کرتا تھا، اپنی مرضی سے شادی کی‘‘، لاپتا لڑکی کا سندھ ہائیکورٹ میں پیش ہوکر بیان

والد احاطہ عدالت میں بیٹیوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا رہا لیکن لڑکیوں نے باپ سے ملنے سے انکار کر دیا


ویب ڈیسک July 08, 2026

کلفٹن میں ساحل سمندر کے قریب سے پھول بیچنے والی لاپتا ہونے والی لڑکیاں بازیاب کر لی گئیں، سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کر دی۔

ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو کم عمر لڑکیوں کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے دونوں لڑکیوں کو عدالت میں پیش کردیا۔

تفتیشی افسر نے کہا کہ بڑی لڑکی نے قربان نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے۔

وکیل درخواست گزار بشریٰ عباس ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ بڑی لڑکی کی عمر 14 سال ہے جسے قربان نامی شخص نے اغوا کیا ہے جبکہ 14 سالہ بے بو 6 سالہ بہن علینا کو بھی ساتھ لے گئی ہے۔

کمرہ عدالت میں لڑکیوں کے باپ حیات اللہ نے دہائیاں دیتے ہوئے کہا کہ بچیوں کو دیکھنے کے لیے ترس رہا ہوں۔

لڑکی بے بو نے بیان دیا کہ والد ظلم کرتا تھا اس لیے میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، جس پر عدالت نے تفتیشی افسر کو لڑکی کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کر دی۔

والد احاطہ عدالت میں بیٹیوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا رہا تاہم لڑکیوں نے باپ سے ملنے سے انکار کر دیا۔

دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ دونوں بچیاں غریب رکشہ ڈرائیور حیات اللہ کی بیٹیاں ہیں، والد کی مدد کے لیے پھول بھیچتی تھیں۔ 12 مئی کو دونوں بچیاں گھر سے پھول بیچنے گئیں لیکن واپس نہیں آئیں۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر 14 سالہ بیبو اور 6 سالہ علینہ کو بازیاب کراکے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔