وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کو ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کے مجوزہ فیصلے پر نظرثانی کے لیے خط لکھ دیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے خط میں لکھا ہے کہ ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ عوامی تشویش کا باعث ہے، خیبرپختونخوا اسمبلی بھی تحفظات کا اظہار کرچکی ہے، خیبرپختونخوا حکومت منصفانہ ٹیکس نظام کی حامی ہے، مسئلہ ٹیکس نہیں بلکہ انضمام کے وقت وفاق کی جانب سے کیے گئے وعدوں سے انحراف ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ضم اضلاع کا خیبرپختونخوا میں انضمام وفاق کی جانب سے مالی، آئینی اور ادارہ جاتی معاونت کے واضح وعدوں کے ساتھ عمل میں آیا تھا، انضمام کے وقت کیے گئے وفاقی وعدے آج بھی پورے نہیں ہوئے، خیبرپختونخوا انضمام کا تمام اضافی بوجھ تنہا اٹھا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ضم اضلاع کے لیے این ایف سی میں طے شدہ حصہ تاحال خیبرپختونخوا کو فراہم نہیں کیا گیا، خیبرپختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کے طور پر بے مثال انسانی، معاشی اور انفراسٹرکچر نقصانات برداشت کرچکا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبہ امن و امان، انسداد دہشت گردی، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر پر مسلسل بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے، افغانستان کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش نے ضم اضلاع کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پسماندگی، ناکافی انفراسٹرکچر اور توانائی کے مسائل آج بھی خطے کی معاشی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہیں، ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس استثنیٰ سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی ترقی کے فروغ کے لیے دیا گیا تھا، جن معاشی و سماجی حالات کی بنیاد پر ٹیکس استثنیٰ دیا گیا تھا وہ آج بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مجوزہ ٹیکس اقدامات مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، وزیراعلیٰ وفاقی حکومت ضم اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن سے ٹیکس استثنیٰ واپس لینے کا فیصلہ فوری طور پر مؤخر کیا جائے۔