ذہنی دباؤ کم کرنا چاہتے ہیں؟ یہ غذائیں مزاج کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں

متوازن اور صحت بخش غذا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے


ویب ڈیسک July 09, 2026

روزمرہ زندگی کی مصروفیات، معاشی دباؤ اور دیگر مسائل کے باعث آج کل بہت سے افراد ذہنی تناؤ اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ اگرچہ اس کیفیت سے نکلنے کے لیے ورزش، آرام اور مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ متوازن اور صحت بخش غذا بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بعض غذائیں دماغ میں ایسے کیمیکلز کی پیداوار بڑھانے میں مدد دیتی ہیں جو مزاج کو بہتر اور ذہن کو پرسکون رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر گرم دلیہ جیسی غذائیں سیروٹونن کی سطح میں اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ کچھ غذائیں تناؤ سے متعلق ہارمونز، جیسے کارٹیسول اور ایڈرینالین، کی مقدار کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ متوازن خوراک مدافعتی نظام مضبوط بنانے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس، جنہیں ہضم ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے، ذہنی سکون کے لیے زیادہ مفید سمجھے جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ثابت اناج سے بنی روٹی، پاستا اور دیگر مکمل اناج والی غذائیں بہتر انتخاب ہیں، کیونکہ یہ دماغ کو بتدریج سیروٹونن بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

پھلوں اور سبزیوں میں بھی کئی ایسی غذائیں شامل ہیں جو ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔ کینو، پالک اور دیگر غذائیت سے بھرپور سبزیاں و پھل جسم کو ضروری وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتے ہیں، جبکہ خشک میوہ جات جیسے بادام، پستہ، اخروٹ اور مختلف بیج صحت بخش چکنائی کے بہترین ذرائع ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ مناسب مقدار میں بادام، پستہ یا اخروٹ کھانے سے کولیسٹرول کم رکھنے، دل کی شریانوں کی سوزش میں کمی لانے اور ذیابیطس کے خطرے کو گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ یہ غذائیں ذہنی دباؤ کے منفی اثرات سے نمٹنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

مشروبات کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ اگرچہ میٹھی اشیا اور سافٹ ڈرنکس فوری توانائی فراہم کر سکتے ہیں، لیکن یہ خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھا دیتے ہیں، اس لیے انہیں ذہنی سکون کے مستقل ذریعہ کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق بلیک ٹی بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں مسلسل چھ ہفتے تک روزانہ چار کپ بلیک ٹی پینے والے افراد نے خود کو زیادہ پرسکون محسوس کیا، جبکہ تناؤ کے بعد ان کے جسم میں کارٹیسول کی سطح بھی نسبتاً کم دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق ایواکاڈو، تازہ دودھ اور بعض قدرتی جڑی بوٹیوں پر مشتمل غذائیں بھی ذہنی سکون میں معاون ہو سکتی ہیں۔ تاہم اگر ذہنی دباؤ طویل عرصے تک برقرار رہے یا روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو صرف غذا پر انحصار کرنے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔