ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مہم میں مصروف ہے


ویب ڈیسک July 08, 2026

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) مبینہ طور پر امریکا کے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی تحقیقات کی زد میں آ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا میں اس کے مالی معاملات سے متعلق منی لانڈرنگ کے شبہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کی مہم میں مصروف ہے، جس کے باعث اس معاملے نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔ تاہم، واضح رہے کہ تحقیقات کا آغاز کسی جرم کے ثابت ہونے یا کسی فرد کے مجرم قرار دیے جانے کے مترادف نہیں۔

ارجنٹائن کے معروف اخبار لا ناسیون کے مطابق ایف بی آئی فلوریڈا میں قائم کمپنی ٹور پروڈ انٹر ایل ایل سی سے متعلق مالی لین دین کا جائزہ لے رہی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ کمپنی امریکا میں اے ایف اے کے تجارتی اور مالی امور سنبھالتی رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بینکوں کے ذریعے تقریباً 26 کروڑ ڈالر کی رقوم کی منتقلی تحقیقات کا مرکز ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان میں سے کچھ ٹرانزیکشنز امریکی مالیاتی قوانین، خصوصاً منی لانڈرنگ سے متعلق ضوابط، کی خلاف ورزی تو نہیں کرتیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مختلف کمپنیوں اور افراد کو ایسے منتقل کیے گئے جن کی فوری طور پر کوئی واضح معاشی یا تجارتی وجہ سامنے نہیں آئی۔ ایف بی آئی مبینہ طور پر بینک ریکارڈز اور مالی دستاویزات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ لین دین امریکی قوانین کے مطابق تھی یا نہیں۔

تحقیقات میں جن بینکوں کے ذریعے رقوم منتقل ہونے کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سٹی بینک، بینک آف امیریکا، جے پی مورگن چیز، پی این سی بینک اور سائنووس بینک شامل ہیں۔

تاہم، رپورٹس میں ان بینکوں پر کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کا الزام نہیں لگایا گیا بلکہ ان کا نام صرف اس لیے آیا ہے کہ انہوں نے زیرِ تحقیق مالی لین دین کو پراسیس کیا۔

رپورٹس کے مطابق تحقیقات کا دائرہ اے ایف اے کے مالی معاملات سے وابستہ بعض شخصیات تک بھی پھیل گیا ہے۔ جن میں ایسوسی ایشن کے صدر کلاڈیو تاپیا کا نام بھی شامل ہے۔

تاہم، اب تک نہ کلاڈیو تاپیا اور نہ ہی کسی دوسرے عہدیدار کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ یا فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔