شارجہ سے کراچی آتے ہوئے حادثے کا شکار ہونے والے نجی کارگو طیارے کے عملے کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں تاہم انہوں نے امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور کسی معجزے یا خوش خبری کے منتظر ہیں۔
ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے نجی کارگو ائیرلائن کے طیارے کے کپتان رضوان ادریس کے بیٹے شہیر رضوان نے بتایا کہ اکثروبیشتر والد جب فلائٹ پر جاتے تھےتو ان سےرابطہ ہوا کرتاتھا، والد پیر کو طیارہ کراچی سے شارجہ لے کرگئے تھے اور منگل کو ان کی واپسی تھی۔
شہیررضوان نے بتایا کہ گزشتہ روز شام 7:20 پر والد سےآخری مرتبہ گفتگو ہوئی، میڈیا کے ذریعے طیارہ حادثے کی اطلاع ملی۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کےشکر گزار ہیں کہ وہ طیارے میں سوار کاک پٹ کریو کی تلاش کےلیے کام کر رہے ہیں، چیف آف آرمی اسٹاف، صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان سےاپیل ہے کہ تلاش کا دائرہ بڑھایا جائے۔
شہیررضوان نے کہا کہ اس معاملے کو انتہائی سجیدہ لیا جائےکیونکہ فیملیاں غم سےنڈھال ہیں، امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا کسی بھی معجزے اور خوش خبری کے منتظر ہیں۔
لاپتا طیارے میں سوار ائیرکرافٹ انجینیئر محمد عارف صدیقی کےگھر میں بھی رشتہ داروں اور دوستوں کی آمد جاری ہے، جن کی رہائش گلستان جوہر میں ہے۔
انجینئر محمد عارف صدیقی کے اہل خانہ بتایا کہ وہ پی آئی اے سے ڈپٹی چیف انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے، ریٹائرمنٹ کے بعد عارف صدیقی نجی کمپنی نادرن ٹیک کے ملازم ہیں، نادرن ٹیک کمپنی لاپتا طیارے کی مینٹیننس کرتی ہے اور انجینئر عارف صدیقی 8 بچوں کے والد ہیں۔
ایئرکرادٹ انجینئر کے بیٹے نے بتایا کہ والد کی والدہ سے آخری بات کل شام 5 بجے ہوئی تھی، والد نے رات ساڑھے نو تک کراچی پہنچنے کا بتایا تھا، ہم اپنے والد اور ان کے ساتھیوں کی سلامتی کے لیے دعا گو اور معجزے کے منتظر ہیں۔
عارف صدیقی کے بیٹے نے کہا کہ طیارے کی تلاش کی کوششوں سے مطمئن ہیں۔