کراچی میں 6 ماہ کے دوران 29 ہزار سے زائد جرائم کی وارداتیں

6 ماہ میں 272 افراد قتل، 18 ہزار سے زائد موٹرسائیکلوں سے شہری ہاتھ دھو بیٹھے، بھتہ خوری کے 80 واقعات رپورٹ ہوئے


منور خان July 08, 2026
(فوٹو : فائل)

رواں سال کے 6 ماہ کے دوران شہر میں اسٹریٹ کرائم ، گاڑیوں ، موٹر سائیکل اور موبائل فونز کی چھینا جھپٹی عروج پر رہی اور 29 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس افسران کی جانب سے کرائم کی وارداتوں میں کمی کے دعوے اپنی جگہ تاہم سی پی ایل سی کی جانب سے ہر ماہ کرائم کے حوالے سے جاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شہر صورتحال اتنی اچھی نہیں جتنی بتائی جا رہی ہے۔

ایک جانب پولیس افسران جرائم کی وارداتوں میں کمی کے دعوؤں سے خوش ہیں تو دوسری جانب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2026 کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران شہر میں مختلف جرائم کی 29 ہزار 142 وارداتیں ہوئیں جس میں شہریوں سے مجموعی طور پر کروڑوں روپے مالیت کی 846 گاڑیاں اور 18 ہزار 824 موٹر سائیکلیں چوری و چھین لی گئیں۔

شہریوں کو 9 ہزار 116 موبائل فونز سے بھی ہاتھ دھونا پڑے، شہر میں مجموعی طور پر قتل و غارت گری کی وارداتوں میں 272 افراد موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے جبکہ بھتہ خوری کے بھی 80 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم اغوا برائے تاوان کی 3 اور بینک ڈکیتی کا صرف ایک واقعہ رپورٹ ہوا۔

 سی پی ایل سی نے گزشتہ ماہ جون میں کرائم کے حوالے سے جاری اعداد و شمار جاری کیے ہیں جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ 109 گاڑیاں چوری و چھینی گئیں جس میں 8 گاڑیاں چھینی اور 101 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2 ہزار 773 موٹر سائیکلوں کو چوری و چھین لیا گیا جس میں 374 چھینی اور 2 ہزار 419 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا ، گزشتہ ماہ شہریوں سے 1689 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے جبکہ بھتہ خوری کے 9 واقعات رپورٹ ہوئے۔

سی پی ایل سی کے مطابق جون کے 30 روز کے دوران شہر میں قتل و غارت گری کی وارداتوں میں مجموعی طور پر 40 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سی پی ایل سی کی جانب سے ہر ماہ کرائم کے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے 6 ماہ کے دوران 107 گاڑیاں چھینی جبکہ 739 گاڑیوں کو چوری کرلیا گیا۔

متوسط طبقے کی سواری موٹر سائیکلوں پر بھی ملزمان نے خوب ہاتھ صاف کیا رواں سال کے 6 ماہ کے دوران شہریوں سے 2 ہزار 597 موٹر سائیکلیں چھینی اور 16 ہزار 227 موٹر سائیکلوں کو چوری کرلیا گیا۔

شہریوں سے 6 ماہ کے دوران 9 ہزار 116 موبائل فونز بھی چھین لیے گئے۔ اس دورانیے میں شہر میں قتل و غارت گری کی وارداتوں میں 272 افراد کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا جبکہ بھتہ خوری کے 80 واقعات رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح اغوا برائے تاوان کی 3 اور ایک بینک ڈکیتی کی صرف ایک واردات رپورٹ ہوئی۔ 

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب پولیس افسران اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں کمی کا دعوے کر رہے ہیں اگر اسے درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی گاڑیاں ، موٹر سائیکلیں اور موبائل فونز کا چھین جانا بھی انتہائی حیران کن بات ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہری بدستور لوٹ مار کی وارداتوں کا شکار ہیں۔