گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انتخابی شیڈول، ووٹر فہرستوں کی تصحیح، کاغذات نامزدگی اور انتخابی عمل سے متعلق اہم اعلانات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست 29 اگست کو جاری ہوگی اور انتخابات ستمبر کے بجائے اکتوبر کے آغاز میں ہوں گے۔
چیف الیکشن کمشنر راجا شہباز خان نے گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ یکم ستمبر کو ہوگی، امیدواروں کی سہولت اور آزاد امیدواروں کو سیاسی جماعتوں میں شمولیت کا موقع فراہم کرنے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں مزید دو سے چار روز کی توسیع کی جائے گی، جس کے باعث انتخابی شیڈول میں بھی معمولی رد و بدل ہوگا اور پولنگ ستمبر کے بجائے اکتوبر کے آغاز میں متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں 164 یونین کونسل، 10 ڈسٹرکٹ کونسل، 5 ٹاؤن کمیٹیاں، 9 میونسپل کمیٹیاں اور 3 میونسپل کارپوریشنز قائم کی گئی ہیں اور مجموعی طور پر ایک ہزار 343 نمائندے منتخب ہوں گے، خواتین کے لیے 33 فیصد مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر انتخابات عام انتخابات کی تکمیل اور منتخب نمائندوں کے حلف اٹھانے کے بعد الگ سے منعقد ہوں گے، خواتین کے علاوہ غیر مسلم برادری کے لیے بھی مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں۔
راجا شہباز خان نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی درستی کے لیے یکم جولائی سے 15 جولائی تک خصوصی مہم جاری ہے، تمام اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنرز، تحصیل داروں اور دیگر متعلقہ افسران کو رجسٹریشن افسر مقرر کیا گیا ہے تاکہ شہری اپنے ووٹ، پتے اور دیگر کوائف کی بروقت تصحیح کرا سکیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر اپنے متعلقہ رجسٹریشن مراکز جا کر ووٹر اندراج اور کوائف کی درستی یقینی بنائیں تاکہ بعد میں کسی شکایت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا کہ بلدیاتی انتخابات سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر ہوں گے اور اس حوالے سے نافذ قانون پر عمل کیا جائے گا۔
راجا شہباز خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام ایک نیا انتخابی ڈھانچہ ہے، اس لیے عوام اور امیدوار قانون کے مطابق انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیں اور جمہوری نظام کے استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔