پاکستان اس وقت ایک بار پھر دہشت گردی کی ایسی لہر کا سامنا کر رہا ہے جو محض داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاست کی سلامتی، قومی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک منظم اور کثیرالجہتی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔
خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں نے یہ حقیقت مزید واضح کر دی ہے کہ ملک دشمن عناصر نئے انداز اور نئی حکمت عملی کے ساتھ اپنی مذموم سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زیارت اور دالبندین میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور ان کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بروقت، موثر اور کامیاب کارروائیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے محافظ ہر قیمت پر وطن کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔
ان کارروائیوں میں اکیس دہشت گردوں کا ہلاک ہونا اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود کا برآمد ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنی کارروائیوں کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ موجود تھے، لیکن قومی سلامتی کے اداروں نے بروقت اقدام کرتے ہوئے ان کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔
زیارت میں مانگی ڈیم فیز تھری کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کا حملہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ 9پولیس اہلکاروں کی شہادت پوری قوم کے لیے باعث رنج ہے۔ یہ شہداء دراصل اس عزم اور قربانی کی علامت ہیں جس کی بدولت ریاستی ادارے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں۔ شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا بلکہ یہی قربانیاں قوموں کے عزم کو مضبوط اور دشمن کے عزائم کو کمزور کرتی ہیں۔
اسی طرح دالبندین میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیکیورٹی ادارے نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو ان کے محفوظ ٹھکانوں اور منصوبہ بندی کے مراکز پر ہی ناکام بنایا جا سکے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مختلف کالعدم گروہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون بڑھا رہے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں کے درمیان رابطوں اور اشتراک کی اطلاعات اسی حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان کے دشمن مختلف ناموں اور نعروں کے باوجود ایک ہی مقصد کے لیے سرگرم ہیں، یعنی پاکستان میں بدامنی، انتشار اور عدم استحکام پیدا کرنا۔ ایک طرف مذہبی انتہاپسندی کا لبادہ اوڑھے دہشت گرد گروہ ہیں تو دوسری طرف نسلی اور علیحدگی پسندی کے نام پر دہشت گردی کرنے والے عناصر، لیکن دونوں کی منزل ایک ہی ہے۔ یہ اتحاد اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست بھی اپنی قومی سلامتی کی حکمت عملی کو مزید مربوط، جامع اور ہمہ گیر بنائے تاکہ ہر قسم کی دہشت گردی کا یکساں انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
پاکستان مسلسل اس موقف کا اظہار کرتا رہا ہے کہ بعض دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانے افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں، جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے اور دراندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، کیونکہ پائیدار امن کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ سرحدی انتظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور مالی و عسکری معاونت کے راستے مکمل طور پر بند کیے جا سکیں۔
اسی تناظر میں پاکستان بارہا یہ موقف بھی پیش کرتا آیا ہے کہ بعض بیرونی عناصر اور دشمن قوتیں دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر کے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بلوچستان میں سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے اور اس حوالے سے بھارت پر الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی سرزمین یا وسائل دوسرے ملک میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہوں۔
بین الاقوامی برادری پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے دہرے معیارات ترک کرے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف یکساں اور غیر امتیازی موقف اختیار کرے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، عدلیہ، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور عوام سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں فوجی، پولیس اہلکار، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور عام شہری اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن کی فضا بحال ہوئی، مگر دہشت گرد عناصر نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اب اس جنگ کو پہلے سے زیادہ جامع انداز میں لڑنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج نے ہر مرحلے پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور دیگر کامیاب کارروائیوں نے دہشت گردوں کے منظم ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج بھی سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس کی بنیاد پر روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک یا گرفتار کیا جا رہا ہے۔
یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ قدم جمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس عزم کی تکمیل میں پوری قوم کی حمایت اور اعتماد سب سے بڑی طاقت ہے۔ پاکستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی صرف ریاستی اداروں کے خلاف نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے مستقبل، ترقی اور خوشحالی کے خلاف جنگ ہے، اسی لیے قوم اپنی افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے حساس صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔ جب ریاست عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، مواصلات اور بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے تو شدت پسند عناصر کے لیے نوجوانوں کو گمراہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے امن و امان کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشی ترقی کو بھی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ نوجوان نسل کو مثبت مواقع فراہم کرنا، قومی دھارے میں شامل کرنا اور انتہاپسند بیانیے کا علمی، فکری اور سماجی سطح پر مقابلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
زیارت میں مقامی افراد کی جانب سے شہید پولیس اہلکاروں کے لیے احتجاج اور قومی شاہراہ پر دھرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوام دہشت گردی کے واقعات پر شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ریاست کی ذمے داری ہے کہ شہداء کے اہل خانہ کی بھرپور داد رسی کی جائے، زخمیوں کے علاج معالجے کے بہترین انتظامات کیے جائیں اور متاثرہ علاقوں میں عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا اعتماد ہی ریاست کی سب سے بڑی قوت ہوتا ہے، لہٰذا ان کے جائز تحفظات کا بروقت ازالہ اور مسائل کا موثر حل قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
پاکستان کی بقا، سلامتی اور ترقی کا راستہ امن سے ہو کر گزرتا ہے، جب کہ امن کی بنیاد دہشت گردی کے مکمل خاتمے میں مضمر ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملے پر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ قومی بیانیہ تشکیل دیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پوری قوم کی اجتماعی ذمے داری تصور کیا جائے۔ جب ریاست، عوام اور تمام قومی ادارے ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار نہیں کر سکتی۔
زیارت اور دالبندین میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کا سلسلہ رکے گا نہیں۔ شہداء کی عظیم قربانیاں قوم کے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں اور یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان کا مستقبل دہشت گردی نہیں بلکہ امن، استحکام اور ترقی سے وابستہ ہے۔
دہشت گرد عناصر خواہ کسی بھی نام، نظریے یا تنظیم کے تحت سرگرم ہوں، ریاست ان کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی۔ قوم کو بھی چاہیے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے، مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کرے اور اتحاد، یکجہتی اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ اس قومی جدوجہد کا حصہ بنے۔ اسی اجتماعی عزم، موثر حکمت عملی اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، اپنے شہداء کی قربانیوں کو حقیقی معنوں میں خراجِ عقیدت پیش کرنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال وطن کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوگا۔