پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بین الاقوامی تثلیث

امریکی سفارت خانوں پر اس قسم کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں


صابر کربلائی July 09, 2026

حال ہی میں روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں سندھ رینجرز کے بھٹائی ونگ ہیڈکوارٹرز پر ہونے والا بزدلانہ اور ہولناک دہشت گردانہ حملہ درحقیقت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔

یہ اس خوفناک اور منظم ترین سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جس کے تحت پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا اور غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی سازش رچی جا رہی ہے۔ اس حملے میں رینجرز کے غیور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف صیہونی اور را (RAW) کے مہروں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا، بلکہ ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے ملک کی ارضی سالمیت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں اور صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز ہونے والے دھماکے، سیکیورٹی فورسز پر حملے اور چینی انجینئرز کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے ازلی دشمن اس ایٹمی مملکت کی معاشی ترقی اور اسٹرٹیجک خود مختاری کو ہضم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔خاص طور پر ایسے حالات میں کہ جب پاکستان عالمی امن کی کوششوں میں پیش پیش ہے۔

پاکستان کے خلاف جاری اس ففتھ جنریشن وار (Fifth Generation War) کے تانے بانے واشنگٹن، تل ابیب اور نئی دہلی کی شیطانی تثلیث (Triad) سے ملتے ہیں۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت کا یہ گٹھ جوڑ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ، پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور عالم ِ اسلام میں پاکستان کے اصولی موقف کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک نے اپنی خودمختاری کا سودا کرنے سے انکار کیا، اسے داخلی عدم استحکام کا نشانہ بنایا گیا۔

دنیا بھر میں غیر ملکی سفارت خانے دوستی کی علامت سمجھے جاتے ہیں اگر یہ سفارت خانے عالمی قوانین سے ہٹ کر کسی ملک کے خلاف سازشیں کریں تو اس ملک کو ناپسندیدہ قرار دے دیا جاتا ہے۔  امریکی سفارت خانوں پر اس قسم کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

سفارت خانوں کی مشکوک سرگرمیاں اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزیاں اس بات کا واضح ثبوت ہوتی ہیں کہ وہ ممالک کرپشن اور احتساب کی آڑ میں یا سفارتی چھتری کا استعمال کر کے اس ملک کے داخلی معاملات کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہتے ہیں، تاکہ وہاں ایک مستقل ہیجان کی کیفیت برقرار رہے۔ ایران میں سابق وزیر اعظم مصدق حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کا ہاتھ ملوث رہا ہے۔آج بھی پاکستان اور دیگر ممالک میں اسرائیل و بھارت اپنے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد گرفتار ہونے والے جماعت الاحرار کے دہشت گرد کے حالیہ اعترافی بیانات نے اس پوری سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈز اور کارندوں کو افغانستان کی سرزمین پر باقاعدہ عسکری اور تکنیکی تربیت فراہم کی گئی تھی۔آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے دعوؤں کے برعکس، بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) اور اسرائیلی مہم جو ایجنسی موساد (Mossad) انتہائی متحرک ہیں۔

امریکا کی طویل موجودگی کے دوران جو انفرا اسٹرکچر وہاں قائم کیا گیا تھا، اسے آج بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے، فنڈنگ کرنے اور امریکی ساختہ جدید ترین ہتھیار ان کے حوالے کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاک،افغان سرحد کے اس پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے فضائی حملے اسی صورتحال کا ردِعمل ہیں، کیونکہ کابل کی سرزمین کو پاکستان میں خونریزی کے لیے مسلسل لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔پاکستان کے بار بار انتباہ کے باوجود افغان حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔

صرف کراچی ہی نہیں، بلکہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے بڑے پیمانے پر مربوط حملے اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا، اسی وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان حملوں کا اصل مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ریاست ہے، تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کو روکا جا سکے اور سی پیک کو ناکام بنا کر چین کو اس خطے سے دور رکھا جائے۔

اسرائیل اس سازش میں اس لیے برابر کا شریک ہے کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے وحشیانہ مظالم اور غزہ و لبنان پر کی جانے والی جارحیت کے خلاف پاکستان کی مضبوط اور واضح سفارتی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موساد اور را کے مشترکہ فنڈز سے چلنے والے دہشت گرد گروپ پاکستان کے معاشی مرکز کراچی اور تزویراتی صوبے بلوچستان کو مستقل طور پر میدانِ جنگ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔موساد کو براہ راست امریکی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت، ادارے اور عوام بیرونی طاقتوں کے ان خطرناک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے موثر اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر حکمت عملی مرتب کریں۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت کی یہ تثلیث پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یہ پچیس کروڑ غیور عوام اور دنیا کی بہترین ایٹمی فوج کا وطن ہے۔

پاکستان کو اب سفارتی سطح پر افغانستان کے سامنے سخت ترین موقف اپنانا ہوگا ، کسی بھی ملک کی بلیک میلنگ کے آگے جھکنے کے بجائے اپنی داخلی سلامتی کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ کراچی رینجرز پر حملہ کرنے والوں کا عبرت ناک انجام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے دفاع پر مامور ادارے بیدار ہیں اور وطن عزیز کے خلاف بُنی جانے والی ہر صیہونی و بھارتی سازش کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور جنگ شروع کر رکھی ہے اور جلد وہ اس عفریت کے خاتمے میں کامیاب ہو گا۔