یہ تو آپ اب تک جان چکے ہوں گے بلکہ ہمیں پہچان بھی چکے ہوں گے کہ ہم کوئی اونچی کیٹگری کے دانا دانشور نہیں ہیں اوراونچے اونچے مقامات کے بارے میں اونچی اونچی پتنگیں نہیں اڑا سکتے یعنی کلیلہ دمنہ ٹائپ کے عامی امی کالم گھسیٹ ہیں کیوں کہ ہم خود بھی کلیہ دمنہ کے کرداروں میں سے ہیں ۔
’’کلیلہ دمنہ ‘‘ ایک بہت مشہور کتاب ہے جس کے سارے کردارجانور ہم جیسے ہی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ چرند پرند اورفزند یعنی انعام ہیں اورہم کالانعام ہیں ۔
چلئیے یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ ہم جہاں ہیں اورجہاں سے ہم کو بھی اپنی خبر نہیں آتی کیوں کہ خود ہماری خبر بھی ہم سے پہلے ’’ان کو‘‘آتی ہے جو خبروں کے سرچشمے ہوتے ہیں ،مثلاً ہمیں ابھی تک یہ پتہ نہیں ہے کہ ہم کیا ہیں کیا بن چکے ہیں، ساری دنیا میں ہماری دھوم ہے، ہرطرف سے آفرین شاباش بہت اچھے کی صدائیں بلند ہورہی ہیں یہاں تک کہ کنجوس مکھی چوس ٹرمپ تک ہماری مالا جپ رہا ہے۔
پوٹن بھی واہ واہ کیے جارہا ہے ، عرب لوگ تو مرحبا مرحبا کہتے ہوئے نہیں تھکتے ، ایران والے تو اتنے زیادہ ہم سے راضی بازی ہیں کہ کہیں ایران کو ہمارا صوبہ نہ بنا دیں ۔ اورایک ہم ہیں کہ ہمیں خبر ہی نہیں اور بدستور فضول باتیں کیے جا رہے ہیں، گرانی مہنگائی یہ وہ … خیر چھوڑئیے وہ ہم آپ کو کلیلہ دمنہ ٹائپ کی ایک کہانی سنانے والے تھے ، ہوا یوں کہ ایک نادان بالکل ہماری طرح کا مرغ کوڑے کا ڈھیر کھود رہا تھا، ایک بار جو اس نے پنجہ مارا تو ایک بہت قیمتی ہیرا نکل آیا ، بے وقوف احمق ڈفر مرغے نے پنجہ مار کر ہیرے کو دور پھینک دیا اورپھر کوڑا کھودنے لگا ۔
ایک دانا دانشور راستے سے گزررہا تھا، اس نے نادان مرغے کی یہ احمقانہ حرکت دیکھی تو بولا ارے بیوقوف مرغے تجھے اتنا قیمتی ہیرا ملا ہے اورتم نے اسے دور پھینک دیا ہے اورفضول میں کوڑا کھود رہے ہو۔ مرغے نے کہا ، میرا پیٹ خالی ہے میں ہیرے کو کیا کروں مجھے چند دانوں کی ضرورت ہے ہیرا گیا بھاڑ میں ۔
آپ چونکہ دانا دانشور ہیں یا کم ازکم دانا دانشوروں کی صحبت یافتہ تو ضرور ہوں گے یہ بھی نہیں تو اپنے رہنماؤں رہبروں اورخادموں کے بیانات تو پڑھتے ہوں گے، اس لیے آپ ہی بتائیںکہ وہ مرغا بیوقوف تھا کہ نہیں ؟ تھا بہت بڑا بے وقوف تھا بلکہ ہے کہ ابھی تک کوڑا کھودنے میں لگا ہوا ہے اورقیمتی ہیرے کی پروا نہیں کر رہا ہے بلکہ ہمیں تو اس پر پاکستانی ہونے کا شبہ ہو رہا ہے کہ سامنے دریکتا اورگوہر یک دانہ اتنا قیمتی ہیرا پڑا ہے اور وہ احمق چند دانوں کی تلاش میں مصروف ہے ، ہیرے کے مقابل چند اناج کے دانوں کی حیثیت ہی کیا ہے لیکن بے وقوف کو کون سمجھائے کہ بے وقوف ہوتے ہیں ۔
اب اگر یہاں سے کلیلہ دمنہ ٹائپ کی کہانی چلائیں تو یوں ہوگی کہ اس بے وقوف مرغ اوراس دانا دانشور کی بات سن کر دیوار پر بیٹھی ہوئی ایک مرغی نے مرغ کی نادانی دیکھ کر کہا اے جاہل مطلق مرغے۔ یہ تو نے کیا کیا ،ہیرے کو ٹھکرا کر تم نے اپنے پیروں پر کلہاڑی ماری ہے، اگر تم اس دانا دانشور کی بات مان کر ہیرے کو اپنی کلغی پر سجا دیتے تو میں تم سے دوبول پڑھوا کر تمہاری ’’مرغن‘‘ بن جاتی لیکن تم نے تو وہی نادانی کی جو ایک بلی نے چڑیا کی باتوں میں آکر کی تھی۔
مرغے نے پوچھا ، بلی نے کونسی نادانی کی تھی۔ اس پر مرغی نے مرغے سے کہا کہ ایک چڑیا نے ایک بھینس سے پنگا لیا، چڑیا نے بھینس کے اوپر بیٹ کی تو بھینس کاکچھ نہیں بگڑا لیکن جب بھینس نے اینٹ کا جواب پتھر سے یا بیٹ کا جواب گوبر سے دیا توچڑیا گوبر میں پھنس گئی۔ ایک بلی نے چڑیا کو گوبر کی دلدل سے نکالا اورکھانے کا ارادہ کررہی تھی کہ چڑیا نے کہا کیسی نادان بلی ہے ، مجھے گوبرمیں لتھڑی کھارہی ہے، دھوئے بغیر ۔ بلی نے چڑیا کو دھوکر صاف کیا تو چڑیا بولی، کتنی بے وقوف بلی ہے مجھے گیلی کھا رہی ہے اورسکھاتی نہیں ، بلی نے گیلی چڑیا کو دھوپ میں سکھانے کے لیے رکھا جب چڑیا سو کھ گئی تو پھر کرکے اڑ گئی اورایک درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھ کر بلی سے کہا کہ تم نے وہی نادانی کی جو ایک گیدڑ نے اونٹ کے ہونٹ دیکھ کر کی تھی۔ بلی نے پوچھا گیدڑ اوراونٹ کے ہونٹ کا کیا قصہ تھا۔
چڑیا بولی ، ایک گیدڑ نے اونٹ کے لٹکے ہوئے ہونٹ کو دیکھ کر سمجھا کہ اس کا یہ ہونٹ گرنے والا ہے ، گرے گا تو میں ہڑپ کرلوں گا اوروہیں بیٹھ کر اونٹ کے ہونٹ کے گرنے کاانتظار کرنے لگا ، کئی دن گزرگئے، گیدڑ بھوکا پیاسا اونٹ کے ہونٹ گرنے کا انتظار کرتا رہا، بیچارا کہیں جا بھی نہیں سکتا تھا کہ اگر میں ادھر ہوگیا اوراونٹ کاہونٹ گرگیا تو کوئی اور کھالے گا ۔
ایک دن اس راستے سے ایک معمر گیدڑ کاگزرہوا تو وہ مڑ کر اس نوجوان گیدڑ کے پاس آکر بولا ۔ بیٹا تم اونٹ کے جس ہونٹ کاانتظار کررہے ہو اس ہونٹ کے انتظار میں ۔ میں نے ستتر سال گزارے ہیں ، یہ گرنے والا نہیں ، گرنے کادھوکہ دے رہا ہے ، نوجوان گیدڑ نہیں مانا، بولامجھے یقین ہے کہ یہ ہونٹ ضرورگرے گا کیوں کہ میں اخبارات اورٹی وی چینلوں پر دانادانشوروں کی دانائیاں پڑھتا اورسنتا رہتا ہوں اوران دانا دانشوروں کاکہنا ہے کہ یہ ہونٹ بس گرنے ہی والا ہے ، تم بڈھے کیا جانوں دانادانشوروں کی دانائیاں اور دانشوریاں۔اس پر بڈھے گیدڑ نے کہا تم بھی وہی غلطی کررہے ہو جو اس مرغ نے کی تھی جسے کوڑے کے ڈھیر میں دانے ملنے کی امید بلکہ خوش فہمی تھی حالانکہ اس کوڑے کے ڈھیر میں دانے تھے ہی نہیں صرف ہیرے تھے ۔