غیر قانونی افغان باشندوں کیخلاف کئی ممالک میں کریک ڈاؤن، ترکیہ میں گرفتاریوں کی نئی لہر

برطانوی نشریاتی ادارہ طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیوں کوافغان باشندوں کی غیرقانونی نقل مکانی کا ذمہ دار قراردےچکا ہے


ویب ڈیسک July 09, 2026

دنیا کے مختلف ممالک میں غیرقانونی افغان باشندوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جب کہ ترکیہ میں گرفتاریوں کی نئی لہر شروع ہوئی ہے۔

یورپ میں افغان باشندوں کی انسانی اسمگلنگ بڑے سیکیورٹی چیلنج کی صورت میں سامنے آئی ہے۔

افغان جریدے ’افغان انٹرنیشنل‘ کے مطابق ترک حکام نےغیرقانونی طورپرترکیہ  سےیورپ جانےکی کوشش پر24افغان باشندوں کو گرفتارکرلیا۔ ترکیہ کےشہر ادرنہ میں گرفتارہونےوالےافغان باشندوں میں 7خواتین اور6بچے بھی  شامل ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق ترک پولیس نے افغان شہریوں کو غیر قانونی طریقے سےمنتقل کرنے پر بس ڈرائیور کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ ترک مائیگریشن ایجنسی  کے مطابق رواں سال کے پہلے 5ماہ کے دوران 16ہزار436 افغان باشندوں کورہائشی کارڈ نہ ہونے کے باعث حراست میں لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 2روز قبل بھی پولینڈ حکام نے بھی غیرقانونی  طورپرملک میں داخل ہونے والے15افغان باشندوں کو گرفتارکیاتھا۔

برطانوی نشریاتی ادارہ طالبان رجیم کی سخت گیرپالیسیوں اورانتقامی کارروائیوں کوافغان باشندوں کی غیرقانونی نقل مکانی کا ذمہ دار قراردےچکا ہے۔ افغان باشندوں کی حالیہ گرفتاریاں اس بات کاعکاس ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک ان کی غیرقانونی موجودگی کو مزید برداشت کرنےکیلئےتیار نہیں۔