دولت کا لالچ؛ بچوں نے جائیداد ہتھیانے کیلیے والد کو ذہنی مریض قرار دیدیا

لاہور ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد مغوی کی بازیابی کا حکم جاری کردیا


ویب ڈیسک July 09, 2026
ریسٹ ہاؤسز اور گیسٹ ہاؤسز کے مالکان کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاں ٹھہرنے والے تمام مسافروں کے کوائف3 گھنٹے کے اندر متعلقہ تھانے میں جمع کرائیں، ڈی آئی جی ویسٹ۔ فوٹو: فائل

لاہور:

دولت کی لالچ میں اور جائیداد ہتھیانے کے لیے بچوں نے اپنے والد کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔

ہائیکورٹ نے دولت کی لالچ میں بچوں کی جانب سے ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر میں داخل کروائے گئے والد کو بازیاب کروا کر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بازیابی کی درخواست پر سماعت جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے فاروق حیدر نے کی، جہاں تھانہ شادمان لاہور نے مغوی ناصر خان دولتانہ کو عدالت میں پیش کیا۔ مدعی عامر کی جانب سے ایڈووکیٹ صغراں گلزار نے دلائل دیے۔

عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مغوی کے نام پر لڈن وہاڑی میں قیمتی کمرشل اراضی موجود ہے۔  حقیقی بچوں نے اپنے والد کو ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر میں داخل کروا دیا ہے۔ ناصر خان دولتانہ نے 8 ایکڑ اراضی 19 جون 2026 کو فروخت کا معاہدہ کیا، اس زمین کی فروخت کا معاہدہ 28 کروڑ روپے میں طے پایا تھا۔

وکیل نے مزید بتایا کہ مغوی کے 4 بچوں نے رنجش پر باپ کو ذہنی مریض قرار دے دیا۔ ناصر خان نے اپنے ایک بیٹے اور 3 بیٹیوں کے نام 80 ایکڑ زمین منتقل کر دی ہے۔ بچوں نے زمین فروخت کے معاہدے کے بعد 28 جون 2026 کو ویلنگ ویز سینٹر میں زبردستی داخل کروا دیا۔

عدالت سے استدعا کی گئی کہ تندرست شخص کو ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر سے بازیاب کروانے کا حکم دیا جائے، جس پر عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر بازیابی کا حکم صادر کر دیا۔