امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں کہا کہ امریکا یوکرین کو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم بنانے کا لائسنس دے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد روس کی جانب سے چار سال سے زیادہ کی جنگ میں میزائل حملوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ کیف کے لیے بڑی اہم بات ہے جو طویل عرصے سے ٹیکنالوجی کی درخواست کررہا ہے۔
واضح رہے کہ پیٹریاٹس کی غیر ممالک میں تیاری پر امریکا ہمیشہ سے مخالفت کرتے آیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان امریکا کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہے۔
امریکا نے اجلاس میں یورپی شراکت داروں کو گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کرنے اور ایران میں اس کی جنگ کی حمایت نہ کرنے پر بھی تنقید کی تاہم اجلاس کے اختتام پر ٹرمپ نے یورپی اتحاد کو بیان کیا اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنے کی تعریف کی کیونکہ امریکا نے یورپ میں اپنی فوجیں کم کی ہیں اور براعظم کو اپنی سلامتی کی زیادہ ذمہ داری لینے پر اصرار کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو نے اتحاد کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔
ٹرمپ نے سربراہی اجلاس میں کہا کہ امریکا کو گرین لینڈ کو کنٹرول کرنا چاہیے جس کے جواب میں ڈنمارک کے وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے کہا کہ ان کا ملک اپنی سرزمین سمیت نیٹو کے ہر انچ کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے اسپین کو نیٹو میں ایک خوفناک پارٹنر قرار دیا اور تجارت کو منقطع کرنے کی اپنی دھمکیوں کی تجدید کی۔