خواجہ سراؤں کی جانب سے پولیس کی مبینہ ضلع بدری اور ہراساں کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان نے سماعت کی


ویب ڈیسک July 09, 2026

پشاور ہائی کورٹ میں خواجہ سراؤں کی جانب سے پولیس کی مبینہ ضلع بدری اور ہراساں کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان نے کی۔

سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا یہ ٹرانس جینڈر سے متعلق معاملہ ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ سراؤں نے درخواست دائر کی ہے کیونکہ پولیس انہیں ہراساں کر رہی ہے اور گھروں سے بے دخل کر رہی ہے۔

عدالت نے دریافت کیا کہ کیا اس حوالے سے کوئی قانون سازی ہو رہی ہے؟ اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فضل مولا نے بتایا کہ اس حوالے سے رپورٹ تیار کی گئی ہے، جس میں خواجہ سراؤں کے لیے شیلٹر ہومز، انڈومنٹ فنڈ اور مختلف محکموں میں کوٹہ مقرر کرنے کی تجاویز شامل ہیں، جبکہ سینٹرل جیل میں خواجہ سرا ثوبیہ کو بطور وارڈن تعینات کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ پر جواب موجود نہیں، اس لیے حکومت جواب جمع کرائے۔

سماعت کے دوران خواجہ سراؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس ان کے گھروں پر لوگوں کو لا کر گھر خالی کرنے کا کہہ رہی ہے اور انہیں گھروں میں بھی رہنے نہیں دیا جا رہا۔

جسٹس انعام اللہ خان نے ریمارکس دیے کہ خواجہ سراؤں پر تشدد ہوتا ہے، انہیں قتل کیا جاتا ہے اور اس سے صوبے کی بدنامی ہوتی ہے، لہٰذا حکومت ان کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

درخواست گزار کے وکیل عمران خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت خواجہ سراؤں کی بہتری کے لیے کمیٹیاں تو بناتی ہے، مگر ان میں خواجہ سراؤں کی نمائندگی شامل نہیں ہوتی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ بنائی جانے والی کمیٹیوں میں خواجہ سراؤں کو نمائندگی دی جائے، پولیس انہیں ہراساں نہ کرے اور حکومت آئندہ سماعت تک اس معاملے پر اپنا جواب جمع کرائے۔