کراچی یونیورسٹی میں 2 طلبہ تنظمیوں میں تصادم،2 افراد زخمی

 پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی میں پہنچ گئی


ویب ڈیسک July 09, 2026

جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم میں دو طلبا زخمی ہوگئے، پولیس کی بھاری نفری جامعہ پہنچ گئی، زخمی طلباء کو اسپتال منتقل کردیا گیا، وزیر جامعات سندھ محمد اسماعیل راہو نے واقعے کا سخت نوٹس لے لیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں دو طلبہ تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں دو طلباء زخمی ہوگئے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جامعہ  پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔

طلبہ تنظیم کے مطابق دونوں تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان پہلے تلخ کلامی ہوئی، جو بعد ازاں ہاتھا پائی اور تصادم میں تبدیل ہوگئی۔ واقعے کے نتیجے میں زخمی طلباء کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جامعہ انتظامیہ بھی تمام حقائق اکٹھے کر رہی ہے۔ واقعے کے بعد شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور اطراف میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب اسلامی جمعیت طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے انتظامیہ کو متعدد درخواستوں کے ذریعے کیمپس میں مبینہ طور پر غیر متعلقہ افراد کی آمد اور امن و امان کی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا تھا، تاہم مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

تنظیم کے مطابق تصادم کے بعد مبینہ طور پر باہر سے آنے والے افراد موقع سے فرار ہوگئے جبکہ جامعہ کے زیرِ تعلیم بعض طلبہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

اس حوالے سے وزیر جامعات و بورڈز سندھ محمد اسماعیل راہو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر جامعہ کراچی سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے شفاف اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کے خلاف یونیورسٹی قواعد و ضوابط اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

وزیر جامعات نے زخمی طلبہ اور اساتذہ کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات علم و تحقیق کے مراکز ہیں، جہاں تشدد، ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے تمام طلبہ تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور تعلیمی ماحول کو پرامن رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
محمد اسماعیل راہو نے جامعہ انتظامیہ کو کیمپس میں سیکیورٹی اور نظم و ضبط مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ جامعہ کراچی میں امن و امان کی بحالی اور طلبہ، اساتذہ و عملے کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پانچ طلبہ کو پولیس نے حراست میں لیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

وزیر جامعات نے واضح کیا کہ لڑائی میں ملوث افراد کا تعلق کسی بھی طلبہ تنظیم یا جماعت سے ہو، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔