مصر کی 83 سالہ خاتون اَمل اسماعیل عبدو نے یہ ثابت کر دیا کہ علم حاصل کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ انہوں نے سوشیالوجی میں پی ایچ ڈی مکمل کر کے نہ صرف ایک منفرد مثال قائم کی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حوصلے اور عزم کا پیغام بھی دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اَمل اسماعیل عبدو کو 5 جولائی کو منصورہ یونیورسٹی کے شعبۂ سوشیالوجی، فیکلٹی آف آرٹس کی جانب سے ان کے تحقیقی مقالے کی بنیاد پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی۔ ان کی اس کامیابی کو تعلیمی حلقوں میں غیرمعمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اَمل اسماعیل عبدو نے کہا کہ 83 برس سے زائد عمر میں پی ایچ ڈی حاصل کرنا دراصل ان تمام افراد کے لیے ایک پیغام ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بڑھتی عمر خوابوں کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ان کے مطابق انسان جب تک سوچنے، سیکھنے اور محنت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عمر صرف ایک عدد ہے، اصل اہمیت انسان کے ارادے، خود اعتمادی اور مسلسل کوشش کی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ پر بھروسہ اور مضبوط عزم کے ساتھ انسان اپنی منزل تک ضرور پہنچ سکتا ہے، چاہے عمر کا کوئی بھی مرحلہ کیوں نہ ہو۔ اَمل اسماعیل عبدو کی یہ کامیابی اس حقیقت کا عملی ثبوت بن گئی ہے کہ سیکھنے کا سفر زندگی کے کسی بھی موڑ پر جاری رکھا جا سکتا ہے۔