بھارت میں او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹائے جانے کے باوجود دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘ بیرونِ ملک مقیم شائقین میں غیر معمولی دلچسپی حاصل کر رہی ہے۔ معروف پنجابی گلوکار جسبر جسی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا سمیت مختلف ممالک میں یہ فلم واٹس ایپ کے ذریعے بڑی تعداد میں شیئر اور ڈاؤن لوڈ کی جا رہی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسبر جسی کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارتی ناظرین کے لیے فلم اب پلیٹ فارم پر دستیاب نہیں، لیکن امریکا اور دیگر ممالک میں لوگ اسے مختلف ذرائع سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول واٹس ایپ پر اس فلم کو جس رفتار سے شیئر کیا جا رہا ہے، شاید ماضی میں کسی فلم کو غیر رسمی طور پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے موبائل فونز تک رسائی حاصل نہیں ہوئی۔
جسبر جسی نے فلم کو بھارت میں ہٹائے جانے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم میں ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس کی بنیاد پر اسے روکنے کی ضرورت پیش آتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے یا پولیس کو یہ تاثر ملا ہے کہ فلم میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے بس دکھایا گیا ہے تو درحقیقت یہ کسی بے بسی کے بجائے نااہلی اور بدعنوانی جیسے مسائل کی عکاسی ہے۔
یہ فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور جدوجہد پر مبنی ہے اور ابتدا ہی سے مختلف تنازعات کا شکار رہی۔ فلم کا ابتدائی نام ’پنجاب 95‘ تھا، جسے 2022 میں بھارتی سنسر بورڈ کے پاس منظوری کے لیے پیش کیا گیا، تاہم یہ تقریباً تین برس تک سرٹیفکیشن کے مرحلے میں پھنسی رہی۔
فلم کے ہدایت کار کے مطابق سنسر بورڈ نے فلم میں 127 کٹس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ حکومتی اعتراضات کے باعث 2023 میں ٹورنٹو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔
بالآخر کئی برس کی تاخیر کے بعد فلم کو 3 جولائی کو ’ستلج‘ کے نام سے زی فائیو پر ریلیز کیا گیا، تاہم ریلیز کے کچھ ہی عرصے بعد اسے بھارتی صارفین کے لیے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ کے ساتھ کنول جیت سنگھ اور ارجن رامپال نے بھی اہم کردار ادا کیے ہیں۔