لمبی عمر اور اینٹی ایجنگ تحقیق کے حوالے سے دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے امریکی ٹیک انٹرپرینیور برائن جانسن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک نایاب اور فی الحال ناقابلِ علاج بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی صحت سے متعلق یہ تفصیلات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے شیئر کیں۔
برائن جانسن کے مطابق انہیں آٹو امیون گیسٹرائٹس نامی بیماری لاحق ہوئی ہے، جو معدے کو متاثر کرنے والی ایک دائمی کیفیت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی صحت پر پہلے سے کہیں زیادہ گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ آیا ان کا مدافعتی نظام اس بیماری کے خلاف مؤثر انداز میں ردعمل دے سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس بیماری کے حوالے سے جن جدید طریقۂ علاج کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ان میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی اینٹی باڈیز کے ذریعے ان مدافعتی خلیوں کو ہدف بنانے کی کوشش شامل ہے جو معدے کی اندرونی تہہ پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ طریقہ کار ابھی صرف تجرباتی مرحلے میں ہے اور اسے معمول کی طبی نگہداشت یا مستند علاج کا حصہ نہیں سمجھا جاتا۔
برائن جانسن کی بیماری سامنے آنے کے بعد طبی ماہرین اور سائنسی حلقوں میں ان کے متنازع اینٹی ایجنگ تجربات پر بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے عمر بڑھنے کے عمل کو سست کرنے کے لیے خون کے پلازما کی منتقلی، جین تھراپی، لیزر ٹریٹمنٹس، سخت غذائی معمولات، سو سے زائد سپلیمنٹس اور دیگر تجرباتی طریقوں پر عمل کرتے رہے ہیں۔
آٹو امیون گیسٹرائٹس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی دائمی بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام غلطی سے معدے کی حفاظتی اندرونی تہہ پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معدے میں مسلسل سوزش پیدا ہوتی ہے اور وہ خلیات متاثر ہوتے ہیں جو خوراک ہضم کرنے اور ضروری اجزا جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کے باعث جسم میں وٹامن بی 12 مناسب مقدار میں جذب نہیں ہو پاتا، جس سے خون کی کمی سمیت دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس مرض کی ابتدائی علامات اکثر واضح نہیں ہوتیں، تاہم شدت بڑھنے پر پیٹ کے اوپری حصے میں درد، بھوک میں کمی، متلی، قے، کمزوری اور نقاہت جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹو امیون گیسٹرائٹس کی تشخیص عموماً خون کے ٹیسٹ میں مخصوص اینٹی باڈیز کی جانچ اور اینڈوسکوپی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس بیماری کا مستقل علاج فی الحال موجود نہیں، تاہم وٹامن بی 12 کے انجیکشنز، ادویات اور مناسب طبی نگرانی کے ذریعے اس کی علامات کو قابو میں رکھ کر مریض معمول کے مطابق زندگی گزار سکتا ہے۔