لاہور:
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم اربوں روپے سرمایہ کاری کرکے لوگوں کو پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرتے ہیں اور لیوی کی مد میں کھربوں روپے حکومت کو دیتے ہیں، حکومت نے ہمارے اربوں کے واجبات ادا نہیں کیے الٹا چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
یہ باتیں ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سینئر وائس چیئرمین طارق محمود اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر جہانزیب ملک نے کہیں۔
ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل سستا ہونے کے باوجود ریلیف نہیں دیا گیا حکومت نہ تو پٹرول سستا کر رہی نہ ہی پیٹرولیم ڈیلرز کے مسائل حل کر رہی ہے بلکہ ان کے اوپر کئی کئی ایف آئی آر درج کرا دی گئیں اور اربوں روپے کی ریکوری بھی کر لی گئی، ریکوری کرنے کے بعد لیوی کی مد میں اربوں روپے اکٹھا کرنے کے باوجود عوام کو سستا پٹرول نہیں مل رہا جبکہ عالمی مارکیٹ میں گزشتہ کئی روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطرخواہ کمی ہوئی ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق چھاپوں کی وجہ سے پٹرول کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، لاہور ڈویژن کی بات کریں تو روزانہ 30 لاکھ لیٹر سے زائد پٹرول چاہیے لیکن صرف 10 سے 12 لاکھ لیٹر مل رہا ہے اگر یہی صورتحال ہوئی تو لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں پٹرول کی قلت پیدا ہو جائے گئی بلکہ پیدا ہو چکی ہے، ہمیں سمجھ نہیں آرہا کہ حکومت اوگرا کے بجائے ایف آئی اے اور کسٹم سے کارروائی کیوں کرا رہی ہے؟ جبکہ اوگرا ریگولیٹری اتھارٹی ہے یہ اس کا کام ہے۔
دوسری جانب فیصل آباد، محمود کوٹ اور ماچی گیٹ پر کسٹم اور ایف آئی اے کے چھاپوں سے پٹرول کی سپلائی متاثر ہوئی، روزانہ سیکڑوں گاڑیاں ان آئل ڈپوں سے نکلتی تھیں جو چند درجن رہ گئی ہیں، اکثر پٹرول پمپس بالکل ڈرائی ہونے کے قریب ہیں۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے سینئر وائس چیئرمین طارق محمود نے بتایا کہ حکومت نے ہمارے اربوں روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی اچانک قیمت کم کرنے سے ہمیں 106 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے، حکومت بغیر کسی فریم ورک کے اچانک من مرضی کے مطابق ریٹ مقرر کر دیتی ہے، آئل کمپنیوں سے آج تک مشاورت ہی نہیں گئی ہمارا جو فریم ورک ہے اس سے برعکس پٹرول کی قیمتوں میں کمی پیشی کی جاتی ہے، ہفتہ وار پٹرول کی قیمتوں میں کمی پیشی سے بہت زیادہ نقصانات بڑھ گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی حالات خراب ہونے کے باعث بینکوں نے بھی ایل سی کھولنے سے انکار کر دیا ہے اگر کسی آئل کمپنی کے ساتھ کوئی پرابلم ہے تو آن بورڈ لیا جاتا اس کو نوٹس بھجواتے تاکہ وہ بروقت جواب دے مگر بغیر شوکاز نوٹس کے یک طرفہ کارروائی کر دی گئی، اگر یہی صورتحال رہی تو اس ملک میں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ ہم نے اربوں روپے لگا کے اسٹوریج اور آئل کمپنیاں بنائی ہیں جو حکومت کو اربوں روپے کا ریونیو ہر سال جنریٹ کر کے دے رہے ہیں مگر ہمارے مسائل حل نہیں کیے گئے، گزشتہ برس دو برسوں سے کمیشن میں اضافہ نہیں کیا گیا نہ اور مسائل کو حل کیا گیا بس لالی پاپ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے اگر یہی صورتحال رہی تو ہمیں اپنا کاروبار چلانا مشکل ہو جائے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن لاہور کے صدر جہانزیب ملک نے کہا کہ ہمارے پیٹرول پمپ کے اخراجات پورے نہیں ہورہے پٹرول سستا ہوگا تو عوام کی سہولت ملے گی اور ہمارے اخراجات پورے ہوں گے کیونکہ مہنگا پٹرول ہونے کی وجہ سے عوام نے پٹرول ڈلوانا کم کر دیا ہے، ہمارا لیٹر سیل ہوگا تو ہمیں مارجن ملے گا، لوگ پورا لیٹر کے بجائے کوئی 200 روپے کا ڈلواتا ہے تو کوئی 300 روپے کا، ہم حکومت سے التجا کرتے ہیں کہ ایک دو مہینے کے لیے قیمتوں کو فکس کر دیا جائے تاکہ عوام کو بھی سکون ملے اور ہم کو کاروبار کرنے میں بھی مدد فراہم ہو اگر یہی صورتحال رہی تو پھر ہمارا کاروبار کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب عوام نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم دل پر پتھر نہ رکھیں بلکہ دل سے پتھر ہٹا کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کریں تاکہ ہم بھی سستا پٹرول ڈ لوا سکیں، حکمرانوں کی تمام ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں ان کے جہازوں میں ان کی گاڑیوں میں پٹرول ڈل رہا ہے لیکن عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے عوام کو دو وقت کی روٹی کمانا مشکل ہو گئی ہے ان لوگوں نے ہمیں دال روٹی کے چکر میں ایسا پھنسا دیا ہے کہ ہم دال روٹی پوری کرنے کے چکر میں ہی لگے رہتے ہیں۔
پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 30 سے 35 فیصد کمی ہوئی ہے، اگر صورتحال یہی رہی تو مزید کمی کا امکان ہے جس سے کاروبار کرنا مشکل ہو جائے گا حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر کوئی ایسا لائحہ عمل طے کرے جس سے عوام کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس والوں کو بھی سکون ملے۔