فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ شیئر کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں، کیونکہ عوامی (پبلک) پوسٹس مستقبل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے آسانی سے تلاش کی جا سکیں گی، جس سے رازداری اور آن لائن سیکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی صارف نے ماضی میں کسی ذاتی معاملے، دوست سے ہونے والے تنازع یا کسی حساس موضوع پر عوامی پوسٹ کی ہو تو ممکن ہے کہ آئندہ اے آئی سرچ فیچر کے ذریعے وہ معلومات چند لمحوں میں سامنے آجائیں، حالانکہ پہلے انہیں ہزاروں پوسٹس میں تلاش کرنا آسان نہیں تھا۔
رپورٹس کے مطابق فیس بک اپنے سرچ سسٹم میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری کررہا ہے، جس کے بعد سرچ بار روایتی انداز میں صرف الفاظ تلاش کرنے کے بجائے ایک چیٹ اسسٹنٹ کی طرح سوالات کے جواب بھی فراہم کرے گا۔ اس نظام کے تحت صارفین کئی برس پرانی عوامی پوسٹس، تبصروں اور دیگر دستیاب معلومات تک بھی نسبتاً آسانی سے رسائی حاصل کرسکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی سے معلومات تلاش کرنا پہلے سے زیادہ سہل ہو جائے گا، تاہم اسی کے ساتھ رازداری اور سائبر سیکیورٹی کے مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عوامی پوسٹس کا اے آئی کے ذریعے زیادہ مؤثر تجزیہ اور سرچ ممکن ہوگئی تو سائبر جرائم میں ملوث عناصر بھی صارفین کی معلومات استعمال کرکے انہیں فراڈ یا دیگر آن لائن دھوکا دہی کا زیادہ آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر عوامی نہ کریں اور فیس بک پر پوسٹس کی پرائیویسی کو پبلک رکھنے کے بجائے فرینڈز یا محدود حلقے تک رکھیں۔ اس مقصد کے لیے فیس بک کی ’’Limit Past Posts‘‘ سہولت استعمال کی جا سکتی ہے، جس کے ذریعے ماضی کی تمام عوامی پوسٹس کو صرف دوستوں تک محدود کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ صارفین وقتاً فوقتاً اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیتے رہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی ذاتی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں جو مستقبل میں ان کی پرائیویسی یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔