احمد ندیم قاسمی

احمد ندیم قاسمی کی تعلیم پر خاص توجہ دی گئی، ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے گاؤں کے اسکول سے حاصل کی



احمد ندیم قاسمی نے 20 نومبر 1916 کو انگہ گاؤں ضلع خوشاب میں جنم لیا، ان کے والد محترم کا نام پیر غلام نبی تھا، جس دور میں انھوں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی وہ دور ایسا تھا کہ جب پہلی عالمگیر جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، احمد ندیم قاسمی کا حقیقی نام احمد شاہ تھا۔ یہ ضرور ہے کہ قدرت جس انسان سے کوئی خاص کام لینا چاہے اس انسان کو اسی قدر سخت آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

یہی سب کچھ احمد ندیم قاسمی کے ساتھ بھی ہوا۔ چنانچہ جب ان کی عمر فقط سات برس تھی تو ان کے والد محترم پیر غلام نبی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے چنانچہ یہ ضرور ہوا کہ ان کے والد کی وفات کے بعد ان کے چاچا حیدر شاہ نے ان کی کفالت کا ذمہ لے لیا۔ احمد ندیم قاسمی کی تعلیم پر خاص توجہ دی گئی، ابتدائی تعلیم انھوں نے اپنے گاؤں کے اسکول سے حاصل کی، البتہ مڈل کلاس تک مزید تعلیم کیمبل پور سے حاصل کی۔ عرض کرتے چلیں کہ کیمبل پور موجودہ شہر اٹک کا قدیم نام ہے اور یہ شہر پنجاب میں آباد ہے۔

مزید حصول تعلیم کے لیے وہ شیخوپورہ تشریف لے گئے اور دسویں درجے تک شیخوپورہ سے تعلیم حاصل کی البتہ حصول تعلیم کی تشنگی ابھی تک باقی تھی چنانچہ مزید حصول تعلیم کے لیے وہ بہاولپور چلے گئے اور انٹر تک تعلیم بہاولپور سے حاصل کی لیکن حصول تعلیم کی ایک اور منزل باقی تھی چنانچہ انھوں نے لاہور کا رخ کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا اور سند حاصل کی۔ یہ ذکر خیر ہے 1935کا، وہ زمانہ بڑا ہنگامہ خیز تھا، اس دور میں برٹش سامراج کے خلاف دنیا بالعموم ہندوستان میں بالخصوص آزادی کی تحریک بڑے زور و شور سے جاری ہو چکی تھی، اس آزادی کی دو سمتیں تھیں کانگریس کی تحریک آزادی کا مقصد برٹش سامراج سے بھارت کی مکمل آزادی جب کہ مسلم لیگ کی تحریک آزادی کا مطلب تھا۔

برٹش سامراج سے آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان کا قیام۔ یہ ضرور تھا کہ 1935 میں ہی فرانس، پیرس میں دنیا بھر کے روشن خیال ادبا کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے نام سے ایک تنظیم قائم کی گئی۔ بعدازاں یہ تنظیم بھارت سمیت اکثر ممالک میں قائم ہوگئی۔ بھارت میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام 1936 میں عمل میں آیا ،البتہ احمد ندیم قاسمی نے خود ہی کہا تھا کہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام سے قبل ہی ترقی پسند نظریات اپنا چکا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد وہ یہاں تشکیل پانے والی انجمن ترقی پسند مصنفین کے اولین جنرل سیکریٹری تھے جن کی قیادت میں نومبر کے دوسرے ہفتے میں لاہور میں اولین کل پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی۔ انجمن کی دوسری کل پاکستان کانفرنس 12 اور 13 جولائی 1952 کو کراچی میں منعقد ہوئی۔ اولین اجلاس کی صدارت بابائے اردو مولوی عبدالحق نے کی۔ سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے احمد ندیم قاسمی نے کارکردگی کی رپورٹ پیش کی، البتہ 1954 میں انجمن ترقی پسند مصنفین پابندی کا شکار ہو گئی اور انجمن غیر فعال ہو گئی۔ احمد ندیم قاسمی نے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

انھوں نے عملی زندگی کا آغاز 1936 میں محرر کی حیثیت سے کیا، بعدازاں ایکسائز انسپکٹر رہے ،البتہ 1941 میں انھوں نے صحافت کا آغاز ہفت روزہ بھوپال سے کیا۔ بعدازاں تہذیب نسواں، ادب لطیف، سویرا، نقوش، سحر و فنون میں ان کی تحریریں چھپتی رہیں۔ البتہ 1952 میں روزنامہ امروز میں کالم نگاری کا آغاز کیا۔ 1953 میں روزنامہ امروز کے مدیر ہو گئے، البتہ پنج دریا کے عنوان سے کالم نگاری کا سلسلہ بھی جاری رکھا جب کہ بعدازاں روزنامہ امروز سے علیحدگی اختیار کر لی اور ہلال پاکستان و احسان میں لکھتے رہے جب کہ دیگر اخبارات میں بھی ان کے کالم چھپتے رہے۔

انھوں نے بچوں کے لیے بھی ادب تخلیق کیا جب کہ 1946 سے 1948 کے درمیان وہ ریڈیو پاکستان پشاور کے لیے اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ احمد ندیم قاسمی صاحب فلم نگر میں بھی گئے اور 1940 میں فلم دھرم پتنی کے گیت و مکالمے لکھے مگر یہ فلم ریلیز نہ ہو سکی۔ انھوں نے افسانوں کی 17 اور شاعری کی 8 کتب تحریر کیں۔ چند کتب کے نام یہ ہیں چوپال، جلال و جمال، دھڑکن، بگولے، آنچل، سناٹا، کوہ پیما، بسیط، میرے ہم سفر، دشت وفا، رم جھم و دیگر کتب ہیں۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کے چند اشعار حاضر خدمت ہیں کہتے ہیں کہ:

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر جدائی میری قسمت کر دی

جب تیرا حکم ملا ترک محبت کر دی

دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح اظہار تمنا کرتا

جب سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

انھوں نے ملی گیتوں کی شاعری بھی کی اور خوب کی۔

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل کہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو

 احمد ندیم قاسمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ حکومت پاکستان نے 1968 میں دیا، ستارہ امتیاز 1980 میں دیا۔ انھوں نے تین بار آدم جی ایوارڈ حاصل کیا، دیگر ایوارڈ انگنت ہیں۔ انھوں نے 1988 میں حج کی سعادت حاصل کی جب کہ کئی بار عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ آخری عمر میں ان کو دمہ کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا، البتہ 8 جولائی 2006 کو انھیں دل میں شدید درد ہوا۔ وہ اسپتال میں داخل ہو گئے اور 10 جولائی 2006کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ انھوں نے 89 برس 7 ماہ 20 یوم عمر پائی۔ 10 جولائی کو ان کی 20 ویں برسی ہے، اس موقع پر ہم ان کو صدق دل سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔