الوداعی سلام ، جذباتی مناظر اور ایران مخالف بھارتی عناد

9جولائی2026 کو ایرانی قوم نے اپنے محبوب ، عظیم اور شہید لیڈر ، آئیت اللہ حسینی علی خامنہ ای، کو بے مثال ایرانی شہر، مشہد، میں سپردِ خاک کر دیا ۔


[email protected]

9جولائی2026 کو ایرانی قوم نے اپنے محبوب ، عظیم اور شہید لیڈر ، آئیت اللہ حسینی علی خامنہ ای، کو بے مثال ایرانی شہر، مشہد، میں سپردِ خاک کر دیا ۔ شہادت کے4ماہ اور9دن بعد ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ، جناب علی خامنہ ای ، کی تدفین عمل میں آئی ہے۔ کروڑوں سوگوار اور غمزدہ ایرانیوں نے اشکوں اور آہوں میں اپنے شہید لیڈرکو آخری سلام و سیلوٹ کرکے الوداع کہا ہے۔

چھ دن پر مشتمل سوگوار تقریبات نے اِس جنازے کو تاریخی بنا دیا ہے ۔ شہید خامنہ ای کا جسدِ خاکی تہران ، قُم، کربلا اور نجفِ اشرف سے ہوتا ہُوا بالآخر مشہد کے عظیم و رُوحانی شہر میں اللہ کے سپرد کر دیا گیا۔ جنازے میں شریک ایرانیوں کے بڑے ہی رقت آمیز مناظر دُنیا بھر نے دیکھے ۔دُنیا نے جنازے میں شریک ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر جناب محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اشک بہاتے دیکھا ۔ پاکستان سے جو شیعہ علما مذکورہ جنازے میں شریک ہُوئے ، ہم نے اُنہیں بھی رومال سے اپنے آنسو پونچھتے ہُوئے دیکھا ۔ایرانیوں کو اپنے عظیم لیڈر کے لیے بے تحاشہ آنسو بہاتے دیکھ کر امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو سب سے زیادہ حیرت ہُوئی ؛ چنانچہ موصوف یہ کہتے ہُوئے نہ رہ سکے :’’بعض ایرانیوں کو خامنہ ای کے لیے روتا دیکھ کر مجھے حیرت ہُوئی ۔ مَیں تو سمجھتا تھا کہ ایرانی اُن سے نفرت کرتے ہیں ۔‘‘سچ یہ ہے کہ ایرانیوں نے اپنے سابق سپریم لیڈر کو محبت و اکرام بھرا آخری سیلوٹ و سلام کرکے امریکہ و اسرائیل کی ساری توقعات مٹی میں ملا دی ہیں ۔

ہمارے وزیر اعظم جناب شہباز شریف ، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری ،سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی صاحب اور کئی وفاقی وزرا بھی سابق ایرانی شہید سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ میں شریک ہُوئے ۔ تہران میں ان سب کی اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں بھی ہُوئیں ۔ یہ ملاقاتیں سوگوار اور غمگین ماحول میں ہُوئیں۔ پاکستان اور پاکستانی حکمرانوں اور عوامی نمائندگان نے ایران ، ایرانی عوام اور ایرانی قیادت سے حقِ ہمسائیگی اور حقِ برادری ادا کر دیا ہے ۔

ایرانی وزیر خارجہ ، عباس عراقچی صاحب ، نے خامنہ ای صاحب شہید کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ 70سے زائد ممالک کے شرکت کنندگان وفود کا بھی تہِ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر، محترم رضا امیری، نے بھی شہید خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں اعلیٰ ترین پاکستانی قیادت کی شرکت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایران نے ساتھ ہی دُنیا پر یہ بھی واضح کر دیا کہ ’’ہم نے اپنے شہید و عظیم لیڈر کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں کسی بھی اُس ملک کو شریک نہیں ہونے دیا جس نے ایران پر اسرائیل و امریکہ کی مسلّط کی گئی ناجائز جنگ کی کسی بھی شکل میں حمائت کی ۔‘‘ یوں ایرانی قیادت نے دُنیا کو یہ بھی بتا دیا کہ ہم اپنے دشمنوں اور معاندین کو بھولتے نہیں ہیں !

حیرت انگیز بات ہے کہ ایران پر مسلّط کی گئی اسرائیلی و امریکی جنگ کے دوران متعصب بھارتی قیادت اور انڈین اسٹیلبشمنٹ خاموشی کی چادر اوڑھ کر حملہ آوروں کی حمائت کرتی رہی ، مگر اِس کے باوجود ایران نے بھارت کو شہید خامنہ ای کی آخری رسومات میں شریک ہونے کی اجازت دی ۔ عالمی پروٹوکول کے تحت چاہئے تو یہ تھا کہ بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی ، سابق ایرانی سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ میں خود شرکت کرتے ، مگر اُنھوں نے کرناٹک کے گورنر( تھاور چند گہلوٹ) اور بھارت کے نائب وزیر خارجہ(پبترا مرگریٹا) کو ایران بھیجا ۔

بھارت کم از کم اپنے وزیر خارجہ ( ڈاکٹر جے شنکر) کو ایران بھجوانا چاہئے تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اندازِ سفارت بھارتی بیہودگی بھی ہے اور ایران کی توہین بھی ۔ اِس سے ایران کے خلاف بھارت کا عناد بھی ظاہر ہوتا ہے اور بھارت و مقتدر بی جے پی کی اسرائیل سے دوستی کا اظہار بھی ۔ بھارت نے ایران پر اسرائیلی و امریکی دوستی کو ترجیح دے کر اپنی عالمی ترجیحات بھی عیاں کر دی ہیں ۔ بھارت کے اِس اقدام نے ایران بارے اپنی دوغلی اور منافقانہ پالیسی بھی ظاہر کر دی ہے ۔ ایران کو بھی بھارت کے اِس اقدام سے بہت کچھ سمجھنا چاہئے ۔

شہید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں اُن کے تینوں صاحبزادگان(مصطفیٰ، میثم اور مسعود) تو نظر آئے، مگر سب حیران ہیں کہ اُن کے چوتھے صاحبزادے اور ایران کے نئے سپریم لیڈر ، جناب مجتبیٰ خامنہ ای، اپنے والدِ گرامی کے نمازِ جنازہ میں شرکت کرتے نظر نہیں آئے ۔ اِس سلسلے میں بھارتی میڈیا اِس معاملے کو بار بار اُچھالتا رہا ۔ معروف بھارتی جریدے (انڈیا ٹوڈے) کو بھارت میں ایرانی سپریم لیڈر کے مبینہ نمائندے ،آئیت اللہ حکیم الٰہی، نے انٹرویو دیتے ہُوئے کہا :’’ اسرائیل کی جانب سے ایرانی قیادت کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اِس وجہ سے جناب مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر (بمعنی جنازے میں) موجودگی مناسب نہیں سمجھی جا رہی ۔‘‘لیکن حیرت کی بات ہے کہ بھارت کیوں اِس انٹرویو کو بار بار اپنے جریدے ، ویب سائیٹ اور ٹی وی چینل پر نشر کرتا رہا؟ دُنیا خواہ کچھ بھی کہے،مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ایرانی قیادت اور پاسدارانِ انقلاب نے اپنے (مبینہ زخمی) رہبرِ اعلیٰ کو جنازے کی کسی بھی سوگوار اور تعزیتی تقریب میں ، سیکورٹی کے نکتہ نظر سے، شریک ہونے سے روکا ہے تو بالکل درست اقدام کیا ہے ۔ صہیونی اسرائیل کی جانب سے کوئی بھی واردات ہو سکتی تھی ۔

بھارت نے ایران پر مسلّط کی گئی ظالمانہ اور خونریز جنگ کے پورے عرصے میں ایک بار بھی جارحیت کے مرتکبین (اسرائیل و امریکہ) کی مذمت نہیں کی۔ یوں، ایران کے خلاف، بھارت کی مفاد پرستانہ اور منافقانہ خارجہ پالیسی بھی سامنے آگئی۔ جب 28فروری2026 کو اسرائیل و امریکہ نے متحد ہو کر تہران پر خونریز حملہ کیا ( جس میں علی خامنہ ای، اُن کی بہو زہرہ حداد، اُن کی صاحبزادی بشریٰ خامنہ ای، اُن کے ایک داماد،اُن کی14 ماہ کی پوتی زہرہ محمدی شہید ہو گئے تھے) اُس حملے سے ٹھیک دو دن قبل بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، اسرائیلی دارالحکومت( تل ابیب) میں موجود تھے۔

اِس سے بھی صہیونی و بھارتی گٹھ جوڑ واضح ہوتا ہے۔ جناب علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جب تک صہیونی اسرائیل و مسیحی امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ہلاکت خیز بمباری کرتا رہا، اِس دوران مغربی و امریکی میڈیا نئے ایرانی سپریم لیڈر ، جناب مجتبیٰ خامنہ ای، کے بارے بے بنیاد اور دل آزار ’’خبریں‘‘ شائع کرکے ایرانی عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہے ۔ افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ بھارتی میڈیا اِنہی ایران دشمن( نام نہاد) رپورٹوں کو دوبارہ شائع کرکے ایران کے خلاف اپنے خبثِ باطن کا اظہار کرتا رہا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور محترم ایرانی قیادت کے خلاف بھارتی حکومت، بھارتی میڈیا اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کی یہ دلخراش حرکات ایرانی حکومت اور بھارت میں متعین محترم ایرانی سفیر تک بھی پہنچتی ہوں گی ۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگلے روزبھارت میں ایران کے سفیر، ڈاکٹر محمد فتح علی،نے خطاب کرتے ہُوئے کہا : ’’ایران خطے میں موجود بھارتی برادری کے تحفظ اور سلامتی کے حوالے سے بھارتی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ایران اور بھارت کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اسٹریٹجک تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے مفادات کئی اہم علاقائی معاملات میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

نئی دہلی مکالمے، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے( پتہ نہیں کہاں یہ مبینہ کوششیں جاری ہیں) ایران اور بھارت کے درمیان توانائی، تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی سلامتی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں، جب کہ دونوں ممالک خطے میں امن اور محفوظ سمندری راستوں کے قیام کو مشترکہ مفاد سمجھتے ہیں۔‘‘بھارت بارے ایرانی سفیر کے دل میں اِس نرم اور محبت بھرے گوشے کو دیکھ کر ہم پاکستانیوں کو بجا طور پر حیرت ہُوئی ہے ۔ واضح رہے یہ بھارت ہی ہے جس نے حالیہ ایران ، امریکہ جنگ کے دوران بھارت سے عالمی پانیوں میں داخل ہونے والے ایرانی بحری جہازIRIS Dena ( جو نہتا تھا) کی امریکیوں کو مبینہ مخبری کی تھی اور امریکہ نے ظلم ڈھاتے ہُوئے اِس ایرانی بحری جہاز پر میزائل داغ کر80سے زائد ایرانیوں کو شہید کر دیا تھا ۔ اِس غداری پر بھارت نے ایران سے معذرت کی نہ امریکہ نے قتل کی بہیمانہ واردات کرکے !!