بیروت: امریکی اور لبنانی حکام کے مطابق امریکا جنوبی لبنان کے مخصوص علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کی نگرانی کرے گا، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان نئے مذاکرات بھی آئندہ ہفتے متوقع ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں قائم کیے گئے ابتدائی یا پائلٹ زونز سے اسرائیلی فوج کا انخلا آئندہ چند روز میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس عمل کی نگرانی امریکی سینٹرل کمانڈ کرے گی جو اسرائیل اور لبنان دونوں کے ساتھ رابطے میں رہے گی۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا ان علاقوں میں لبنانی حکومت کی عملداری بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی رابطہ کرے گا تاکہ ریاستی ادارے مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکیں۔
ذرائع کے مطابق لبنان نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ وہ اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا، تاہم اب انخلا کے عمل کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
یاد رہے کہ 26 جون کو ہونے والے فریم ورک معاہدے کے تحت اسرائیل نے جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے مرحلہ وار فوج واپس بلانے پر اتفاق کیا تھا جہاں اس نے حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران اپنی موجودگی قائم کی تھی۔
معاہدے کے مطابق اسرائیلی انخلا کے بعد لبنانی فوج دو مخصوص علاقوں، جنہیں پائلٹ زونز قرار دیا گیا ہے، کا مکمل انتظام سنبھالے گی۔ اس اقدام کا مقصد جنوبی لبنان میں حکومتی عملداری مضبوط بنانا اور سرحدی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
تاحال اسرائیلی حکومت یا لبنانی حکام نے انخلا کے مکمل شیڈول اور مذاکرات کے ایجنڈے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔