کاراکاس: وینزویلا میں گزشتہ ماہ آنے والے دو تباہ کن زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3,889 ہو گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور بے گھر ہیں۔ دوسری جانب عالمی اور علاقائی صحت کے اداروں نے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھیلنے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے خبردار کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگز نے بتایا کہ زلزلوں میں اب تک 16,740 افراد زخمی جبکہ 17,907 افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جنہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
پین امریکن ہیلتھ آرگنائزیشن نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کے شمالی ساحلی علاقوں میں، جہاں زلزلوں سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی، صاف پانی، طبی سہولیات اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جرباس باربوسا کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں سب سے بڑا خطرہ صرف زلزلے سے زخمی ہونے والے افراد نہیں بلکہ صحت کی سہولیات میں تعطل، ہجوم والی پناہ گاہیں، صاف پانی کی کمی، ناقص نکاسیٔ آب اور حفاظتی ٹیکوں تک محدود رسائی ہو سکتی ہے۔
صحت کے حکام متاثرہ علاقوں میں سانس کی بیماریوں، معدے کے انفیکشن اور دیگر وبائی امراض کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ویکسین کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے وینزویلا کی وزارتِ صحت کے ساتھ مشترکہ اقدامات جاری ہیں۔
ادھر اقوام متحدہ نے وینزویلا میں متاثرہ افراد کی امداد کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کی ہنگامی اپیل جاری کی ہے تاکہ فوری طور پر 13 لاکھ ضرورت مند افراد تک خوراک، ادویات، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات پہنچائی جا سکیں۔
اقوام متحدہ کے امدادی سربراہ ٹام فلیچر نے کہا کہ ابتدا میں متاثرین زیادہ تر زخموں کے علاج کے لیے آ رہے تھے، تاہم اب ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر دائمی بیماریوں کے مریض بھی ادویات اور علاج کی کمی کے باعث امداد کے محتاج ہیں۔
شمالی ریاست لا گوائیرا کے علاقے کاتیا لا مار میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کے مطابق جلدی بیماریوں، اسہال اور دیگر انفیکشن کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ عارضی کیمپوں میں ہجوم، صاف پانی کی قلت اور غیر معیاری صفائی کے انتظامات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امدادی سرگرمیوں میں مقامی تنظیمیں اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے بعد امدادی کارروائیوں میں حکومتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے۔