ہر سال اربوں لیٹر پانی سمندر برد ہوجاتا ہے، مؤثر استعمال کےلیے اقدامات ناگزیر ہیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا


ویب ڈیسک July 10, 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں چیئرمین واپڈا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہر سال اربوں لیٹر پانی سمندر برد ہو جاتا ہے، اس لیے پانی کے مؤثر استعمال اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے جامع اقدامات ناگزیر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نئی گنج ڈیم منصوبے میں کنٹریکٹر نے جعلی بینک گارنٹی جمع کرائی، جس کی تصدیق میں پانچ سال لگ گئے، اس معاملے پر واپڈا سپریم کورٹ تک گیا، جبکہ منصوبے پر اب تک 23 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

واپڈا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گلگت بلتستان میں ہارپو ڈیم تعمیر کیا جائے گا، جس کی پیداواری صلاحیت 35 میگاواٹ ہوگی۔ منصوبے کے تحت دو شاہراہیں بھی تعمیر کی جائیں گی، اس کی لاگت 34 ارب روپے ہے، بیرونی فنڈنگ اور حکومت پاکستان اس میں شریک ہوں گے، جبکہ دسمبر 2026 تک منصوبے کا کنٹریکٹ ایوارڈ کر دیا جائے گا۔

واپڈا حکام نے بتایا کہ ادارہ اس وقت چار بڑے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 94 ارب روپے مانگے گئے تھے، تاہم حکومت نے صرف 10 ارب روپے فراہم کیے، جبکہ دیامر بھاشا کے لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ کے لیے 58 ارب روپے درکار ہیں۔ داسو منصوبے کے لیے ایک ارب ڈالر دستیاب ہے، تاہم روپے کی صورت میں فنڈز کی ضرورت ہے۔

واپڈا حکام کے مطابق ادارہ اس وقت بھی 3.83 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کر رہا ہے اور ہائیڈرو پاور منصوبے مسلسل ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

نیلم جہلم منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہے، جس کا انحصار ٹنلز پر ہے۔ منصوبے کے آغاز سے ہی تحفظات موجود تھے، تاہم پاکستان کو دریائے نیلم کے پانی پر اپنا حق مستحکم کرنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ٹنلز میں فالٹ آنے کے باعث منصوبہ بند کرنا پڑا، تاہم یہ اپنی 80 فیصد لاگت پوری کر چکا ہے، اگر دو سال مزید چل جاتا تو مکمل لاگت بھی وصول ہو جاتی۔ ان کے مطابق، منصوبے کو 2028 میں دوبارہ فعال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں وزارت کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

اجلاس میں سپارکو نے دریاؤں کے آبی راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے سے متعلق بریفنگ دی، تاہم قائمہ کمیٹی نے بریفنگ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فراہم کی گئی معلومات واضح نہیں ہیں۔

چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی مون سون کے تناظر میں دریائی راستوں سے رکاوٹیں ہٹانے پر کام کر رہی ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں دریائے چناب پر واٹر اسٹوریجز کی تعمیر سے متعلق بریفنگ دی جائے۔

وزارت آبی وسائل کے ایڈیشنل سیکرٹری سید مہر علی شاہ نے بتایا کہ ڈیمز سیفٹی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، جو ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے مرتب کی گئی، جبکہ ڈیمز سیفٹی سے متعلق بل کے مسودے کو بھی جلد حتمی شکل دے دی جائے گی۔

اجلاس میں دریائے راوی میں تجاوزات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چیف انجینئر پنجاب نے بتایا کہ دریائے راوی سے آبادیاں ہٹا دی گئی ہیں، تاہم چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ کمیٹی کو تجاوزات سے متعلق غلط معلومات نہ دی جائیں اور اس معاملے میں کوئی حقائق نہ چھپائے جائیں۔