یادداشت بہتر بنانی ہے؟ روزمرہ زندگی میں یہ عادات شامل کرلیں

غذا، طرزِ زندگی اور روزمرہ کی عادات بھی دماغی صحت اور یادداشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں


ویب ڈیسک July 11, 2026

بھولنے کی عادت یا یادداشت کی کمزوری صرف بڑھاپے کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ آج کل ہر عمر کے افراد اس کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض اعصابی بیماریوں، خصوصاً الزائمر، میں جینیاتی عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں، لیکن غذا، طرزِ زندگی اور روزمرہ کی عادات بھی دماغی صحت اور یادداشت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

بھرپور نیند

ماہرین کا کہنا ہے کہ پرسکون اور بھرپور نیند یادداشت مضبوط رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تحقیق کے مطابق روزانہ سات سے نو گھنٹے کی معیاری نیند دماغ کو معلومات محفوظ رکھنے اور یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے، جبکہ نیند کی کمی بھولنے کی شکایت میں اضافہ کر سکتی ہے۔

مچھلی کے تیل کا استعمال

غذائی ماہرین مچھلی کے تیل کو بھی دماغی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، خصوصاً ای پی اے اور ڈی ایچ اے، دل کی صحت بہتر بنانے، سوزش کم کرنے، ذہنی دباؤ گھٹانے اور دماغی کارکردگی کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مراقبہ اور میڈیٹیشن

مراقبہ یا میڈیٹیشن بھی ذہنی سکون اور یادداشت بہتر بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی باقاعدہ مشق نہ صرف تناؤ اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ دماغ کے اس حصے کو بھی مضبوط بناتی ہے جو یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت سے متعلق ہوتا ہے۔

مناسب جسمانی وزن

صحت مند جسمانی وزن برقرار رکھنا بھی دماغی صحت کے لیے ضروری ہے۔ ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیادہ جسمانی وزن یادداشت سے متعلق جینز پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ 35 سے 60 سال کی عمر کے افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں موٹاپے اور کمزور یادداشت کے درمیان تعلق بھی سامنے آیا۔

مائنڈ فل نیس کی مشقیں

ماہرین ذہن سازی (Mindfulness) کی مشق کو بھی مفید قرار دیتے ہیں۔ اس طریقے میں انسان اپنی موجودہ کیفیت، ماحول اور احساسات پر پوری توجہ مرکوز کرتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ میں کمی اور ارتکاز کے ساتھ ساتھ یادداشت میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں ذہن سازی کی تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کی یادداشت دیگر طلبہ کے مقابلے میں بہتر دیکھی گئی۔

دماغی مشقیں

دماغی مشقیں بھی حافظہ مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ کراس ورڈ، لفظی کھیل، ٹیٹریس اور مختلف میموری ٹریننگ ایپس دماغ کو متحرک رکھنے اور یادداشت بہتر بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ ایک مطالعے میں ہلکی دماغی کمزوری کے شکار افراد نے صرف چار ہفتوں کی دماغی مشق کے بعد یادداشت کے ٹیسٹ میں بہتر نتائج دیے۔

کاربوہائیڈریٹس کا محدود استعمال

غذا کے حوالے سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ سفید روٹی، سفید چاول، کیک، بسکٹ اور دیگر ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال محدود رکھا جائے، کیونکہ یہ خون میں شوگر کی سطح تیزی سے بڑھاتے ہیں، جو وقت کے ساتھ دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

باقاعدہ ورزش

باقاعدہ ورزش بھی دماغ کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسم کے لیے۔ مختلف تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ جسمانی سرگرمی ہر عمر کے افراد میں دماغی صلاحیت اور یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس غذائیں

اس کے علاوہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور غذائیں، جیسے تازہ پھل، سبزیاں اور چائے، جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو تناؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ 31 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل مختلف مطالعات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ زیادہ مقدار میں پھل اور سبزیاں کھانے والے افراد میں دماغی تنزلی اور ڈیمنشیا کا خطرہ نسبتاً کم پایا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھولنے کی شکایت مسلسل بڑھتی جائے یا روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو اسے معمولی سمجھنے کے بجائے کسی مستند معالج سے ضرور رجوع کرنا چاہیے۔