فرانس کی ٹیم پر نسل پرستانہ تبصرہ، امیتابھ بچن سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آگئے

امیتابھ نے فرانس کے کھلاڑیوں کی رنگت اور نسلی پس منظر پر نامناسب تبصرہ کیا تھا


ویب ڈیسک July 10, 2026

بالی ووڈ کے سینئر اداکار امیتابھ بچن فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران فرانس کی قومی فٹبال ٹیم سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد شدید تنقید کی زد میں آگئے۔ 

فرانس کے کھلاڑیوں کی رنگت اور نسلی پس منظر پر کیے گئے ان کے تبصرے کو متعدد صارفین نے غیر مناسب قرار دیا، جس کے بعد اداکار نے بالواسطہ انداز میں اپنی غلطی تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب فرانس نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پیراگوئے کے خلاف کامیابی حاصل کی، جس کے بعد امیتابھ بچن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ فرانسیسی ٹیم کے 11 کھلاڑیوں میں سے ایک سفید فام جبکہ 10 سیاہ فام ہیں، اور آخر میں ’’بلیک پاور‘‘ کے الفاظ بھی تحریر کیے۔

اداکار کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا پر فوری ردعمل سامنے آیا اور دنیا بھر سے فٹبال شائقین نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ کسی بھی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ان کی جلد کے رنگ یا نسلی پس منظر کے بجائے ان کی قومیت، صلاحیت اور کھیل کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

کئی صارفین نے اس تبصرے کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کھیلوں کے ایسے بڑے مقابلوں میں، جہاں مختلف نسلوں اور ثقافتوں کے کھلاڑی اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، وہاں اس نوعیت کے تبصرے مناسب نہیں سمجھے جاتے، خصوصاً جب وہ کسی بااثر شخصیت کی جانب سے کیے جائیں۔

سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد امیتابھ بچن نے اپنے بلاگ پر ایک تحریر شائع کی، اگرچہ انہوں نے براہِ راست اس تنازع کا ذکر نہیں کیا، تاہم ان کے الفاظ کو کئی صارفین نے اپنی غلطی کا بالواسطہ اعتراف قرار دیا۔

اپنی تحریر میں انہوں نے لکھا کہ زندگی ہر روز انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے اور غلطی کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ شخصیت کی مضبوطی کی علامت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات کسی بحث کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ انسان یہ مان لے کہ ممکن ہے سامنے والا ہی درست ہو۔

امیتابھ بچن کی اس تحریر کے بعد بھی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں بعض صارفین اسے ان کی جانب سے وضاحت سمجھ رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی پوسٹس کرتے وقت عوامی شخصیات کو زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔