بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی بندرگاہوں میں بہتری کے اثرات سامنے آنا شروع

جہاز کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کا نیا نظام متعارف


ویب ڈیسک July 11, 2026
کسٹم ایجنٹس نے کنسائمنٹس کی نقل وحمل آسان بنانے کے لیے تجاویزحکام کو بھیج دیں (فوٹو: فائل)

اسلام آباد: وزیراعظم کی ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کی بندرگاہوں میں بہتری کے اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جس سے آپریشنز میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

حکام کے مطابق ٹاسک فورس میں شامل مختلف اداروں، بشمول (این ایل سی)، کے اقدامات کے باعث بندرگاہوں کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

اصلاحاتی اقدامات کے تحت بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، آپریشنل کارکردگی بڑھانے اور پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ ہب بنانے کی حکمت عملی پر عمل جاری ہے۔

مزید برآں پاکستان سنگل ونڈو کے نفاذ اور متعلقہ اداروں کے انضمام سے کسٹمز کلیئرنس کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔

اسی طرح وی باک (WeBOC) سسٹم کی اپ گریڈیشن اور پورٹ کمیونٹی سسٹم کے نفاذ سے کلیئرنس کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے، جبکہ جہاز کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کا نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قومی بندرگاہوں میں ہم آہنگی، یکساں ٹیرف کے نفاذ اور مختلف کارگو کے لیے مخصوص بندرگاہوں کی پالیسی پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ ریلوے نیٹ ورک، ٹریک اینڈ ٹریس اور بانڈڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹلائزیشن، آٹومیشن اور اسپیس مینجمنٹ کے ذریعے بندرگاہوں پر رش میں واضح کمی آئی ہے۔

حکام کے مطابق ٹرانس شپمنٹ ضوابط اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے نفاذ سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں، اور ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل درآمد پاکستان کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو رہا ہے۔