سندھ میں دہشت گردوں، مجرمانہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے بھر میں سیکiورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں فورم نے موجودہ سیکیورٹی ماحول کا جائزہ لیا، امن و امان، تازہ ترین خطرات اور انٹیلیجنس پر مبنی سیکیورٹی اقدامات اور انٹیگریٹڈ ریسپانس فریم ورک پلان سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس اجلاس میں صوبائی وزراء، سول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، اور فوج، رینجرز، پولیس، انٹیلیجنس اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
شرکاء کو موجودہ سیکیورٹی منظرنامے، دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں، اور صوبے بھر میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
فورم نے ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیاریوں اور جوابی طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شرکاء نے سندھ کے عوام کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں سیکیورٹی خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، بروقت انٹیلیجنس شیئرنگ، اور پیشگی/فعال اقدامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
فورم نے دہشت گردوں، مجرمانہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلیجنس پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ ادارے عوامی تحفظ کو یقینی بنانے، امن برقرار رکھنے اور ریاست کی رٹ کو مضبوط کرنے کے لیے قریبی ہم آہنگی میں کام جاری رکھیں گے۔
وزیراعلیٰ نے تمام سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو سراہا اور ہدایت کی کہ صوبے بھر میں امن و امان برقرار رکھنے میں حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مربوط کوششوں کو مزید بڑھایا جائے۔