یورپی خلائی ایجنسی نے جولائی 2026 کی ’پکچر آف دی منتھ‘ کے طور پر جیمز ویب خلائی دوربین کی جانب سے لی گئی ایک حیرت انگیز تصویر جاری کی ہے، جس میں اربوں نوری سال دور واقع کہکشاؤں کے ایک عظیم جھرمٹ کو دکھایا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تصویر میں MACS J0553.4−3342 نامی کہکشاؤں کا جھرمٹ نظر آ رہا ہے، جو برج کولمبا میں واقع ہے۔ اس مشاہدے میں کائنات کے طاقتور ترین مظاہر میں سے ایک، یعنی دو دیوہیکل کہکشانی جھرمٹوں کے باہمی انضمام کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ کہکشانی جھرمٹ زمین سے تقریباً 4.4 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ چونکہ خلا میں زیادہ دور دیکھنے کا مطلب ماضی میں جھانکنا بھی ہوتا ہے، اس لیے جیمز ویب نے اس جھرمٹ کو ویسا ہی دیکھا جیسا وہ اربوں سال پہلے تھا، جب اس کی روشنی نے زمین کی جانب سفر شروع کیا تھا۔
تصویر میں گریویٹیشنل لینسنگ کا اثر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جس میں انتہائی طاقتور کششِ ثقل دور دراز کہکشاؤں کی روشنی کو موڑ دیتی ہے، جس سے سائنس دانوں کو کائنات کے مزید دور اور مدھم حصوں کا مشاہدہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مشاہدات نہ صرف کہکشانی جھرمٹوں کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ کائنات کی ابتدائی تاریخ اور اس کے ارتقائی سفر کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔