تہران: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب تمام فریقوں کو اپنے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بصورت دیگر انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔
محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بین الاقوامی معاہدے صرف اسی صورت کامیاب ہو سکتے ہیں جب تمام فریق اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے پوری کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی قابل قبول نہیں ہوگی۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے آرٹیکل 5 کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کے انتظامات کا ذکر موجود ہے۔
قالیباف نے خاص طور پر اس جملے کو نمایاں کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران ضروری انتظامات کرے گا‘۔
ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی صورتحال اور مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق قالیباف کے تازہ ریمارکس اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران مستقبل کے مذاکرات میں برابری اور باہمی ذمہ داریوں پر مبنی مؤقف اختیار کرے گا اور کسی بھی یکطرفہ دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔