ایل پی جی انڈسٹری کے نمائندوں نے مسائل کے حل کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے مطالبات پر پیشرفت نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج اور کاروبار بند کرنے کی دھمکی دیدی۔
اتوار کو لاہور میں منعقدہ نیشنل ایل پی جی اسٹیک ہولڈرز کانفرنس میں ملک بھر سے ایل پی جی درآمد کنندگان، مارکیٹنگ کمپنیوں، ڈسٹری بیوٹرز، ٹرانسپورٹرز، پلانٹ مالکان اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ایک ہزار سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی میزبانی صنعت سے وابستہ رہنما حاجی نعمان احمد نے کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی نعمان احمد نے کہا کہ ایل پی جی ملک بھر میں گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے، تاہم صنعت کو پالیسی اور انتظامی نوعیت کے متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانفرنس کا مقصد صنعت کا متفقہ مؤقف مرتب کرکے حکومت کے سامنے پیش کرنا ہے تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
شرکا نے بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں ایل پی جی کی ترسیل کے دوران ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیوروں کو درپیش سیکیورٹی خدشات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی محفوظ اور بلا تعطل ترسیل کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔
کانفرنس میں اوگرا کے ماہانہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے۔ شرکا کا مؤقف تھا کہ موجودہ نظام درآمد کنندگان، پلانٹ مالکان، ڈسٹری بیوٹرز اور صارفین کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قیمتوں کے تعین سے قبل صنعت سے مشاورت اور شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے۔
شرکا نے اوگرا، پیرا اور سول ڈیفنس کی جانب سے کارروائیوں، چھاپوں اور کاروباری سرگرمیوں پر عائد پابندیوں پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون پر عملدرآمد ضروری ہے تاہم جائز کاروبار کو غیر ضروری ہراسانی سے بچایا جانا چاہیے۔
کانفرنس میں پلانٹس کی سیلنگ اور جرمانوں کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی تادیبی کارروائی سے قبل متعلقہ فریق کو نوٹس، وضاحت اور مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے۔
اجلاس میں چھوٹے ڈسٹری بیوٹرز نے ایل پی جی کوٹے کی تقسیم کو مزید شفاف اور منصفانہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس میں شرکا نے حکومت اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے رابطوں کے لیے ایک انڈسٹری کوآرڈینیشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ حاجی نعمان احمد نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں صنعت کے مشترکہ مطالبات پر مشتمل سفارشات متعلقہ وزارتوں کو پیش کی جائیں گی۔
کانفرنس میں متفقہ چارٹر کی منظوری دی گئی جس میں مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کے لائحہ عمل، بشمول احتجاج اور کاروبار کی ممکنہ بندش پر غور کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔