جاپان میں 15 سالہ طالب علم کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایسا پروگرام تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جس کے ذریعے ایک اینیمی اسٹریمنگ سروس کے دسیوں ہزار صارفین کے اکاؤنٹس زبردستی ڈیلیٹ کر دیے گئے۔
پولیس کے مطابق یہ ایک منصوبہ بند اور مسلسل سائبر حملہ تھا جس کے باعث متعلقہ سروس تقریباً ایک ماہ تک معطل رہی۔
ٹوکیو کے قریب واقع شہر توکوروزاوا سے تعلق رکھنے والے ہائی اسکول کے طالب علم پر الزام ہے کہ اس نے 4 نومبر 2025 کو بینڈائی نیمکو فلم ورکس کے سرورز کو جعلی کمانڈز بھیج کر کمپنی کے کاروبار میں دھوکا دہی کے ذریعے رکاوٹ ڈالی۔ یہ کمپنی جاپان کی معروف بینڈائی نیمکو ہولڈنگز کی ذیلی کمپنی ہے۔
تحقیقات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کمپنی کی بینڈائی چینل اسٹریمنگ سروس پر موجود 46 ہزار 812 صارفین کے اکاؤنٹس ان کی اجازت یا علم کے بغیر ڈیلیٹ ہوگئے۔
ٹوکیو میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق طالب علم نے اعتراف کیا کہ اس نے ابتدائی سورس کوڈ خود لکھا تھا۔ تاہم، بعد میں اسے بہتر بنانے اور دوسرے پروگرامنگ لینگویج میں مکمل کرنے کے لیے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی۔
ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انہوں نے اکاؤنٹس حذف کرنے کے عمل کا ابتدائی سورس کوڈ خود تیار کیا تھا لیکن چونکہ اس کی پراسیسنگ میں زیادہ وقت لگ رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی اور اسے ایک مختلف پروگرامنگ زبان میں مکمل کیا۔