امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں سر اٹھانے لگیں

سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ رہی ہے، ماہرین


ویب ڈیسک July 13, 2026

عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جس کی بڑی وجہ امریکا کے ایران پر دوبارہ حملے اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 2.67 ڈالر اضافے کے بعد 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سپلائی پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اسی وجہ سے اس اہم بحری راستے کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کیلئے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی اور شہری جہازوں کو لاحق خطرات کم کرنا ہے۔

دوسری جانب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطے میں جاری کشیدگی طویل ہوئی تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کے اخراجات اور مہنگائی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔