کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے ڈبل روٹی میں پھپھوندی نکلنے پر صارف عدالت کی جانب سے کمپنیوں پر عائد جرمانوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے کمپنیوں کی جانب سے دائر اپیلوں پر سماعت کے بعد صارف عدالت کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے شکایت کنندہ پر مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ صارف عدالت کی جانب سے کمپنیوں پر عائد ایک لاکھ دس ہزار روپے جرمانہ بھی واپس کیا جائے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق شکایت کنندہ اورنگزیب نے 2019 میں تین مختلف کمپنیوں کی ڈبل روٹی میں پھپھوندی کی موجودگی کے خلاف صارف عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شکایت کنندہ نے شواہد کے طور پر نہ تصاویر پیش کیں نہ ہی کسی لیبارٹری سے تجزیہ کروایا جبکہ بیماری سے متعلق کوئی طبی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ شکایت کنندہ کا دعویٰ ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد ہو جانا چاہئے تھا۔ مزید کہا گیا کہ صارف عدالت نے قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی کمپنیوں کو سزا سنائی۔
واضح رہے کہ صارف عدالت نے ہرجانے کے دعوے مسترد کرتے ہوئے صرف عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔