لاہور:
محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور مزارات کے نذرانوں و غلّے کی رقم میں مبینہ خورد برد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسران اور ملازمین کو کروڑوں روپے مالیت کی ریکوری کے حتمی نوٹسز جاری کر دیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے کرپشن سے پاک پنجاب کے وژن کی محکمہ اوقاف حکام نے دربارِ حضرت داتا گنج بخشؒ لاہور کے سابق مینیجر اوقاف (برخاست شدہ) طاہر مقصود کو عرس مبارک کے دوران بدنیتی اور داتا دربار کیش ریکوری کی مد میں 1 کروڑ 13 لاکھ 24 ہزار 867 روپے کی ریکوری کا نوٹس اور بالترتیب 18 لاکھ 71 ہزار 591 روپے کے نوٹس جاری کردئیے۔
سابق ایڈمنسٹریٹر اوقاف شیخ جمیل احمد جو اس وقت جونیئر اسکیل اسٹینو گرافر دفتر سرگودھا زون میں تعینات ہیں انہیں عرس کے موقع پر بدنیتی اور ڈی ڈی کیش ریکوری کے تحت 92 لاکھ 65 ہزار 800 روپے کی ریکوری اور 28 لاکھ 7 ہزار 386 روپے کے نوٹسز بھجوائے گئے ہیں۔
مرکزِ معارفِ اولیاء، میاں میر لاہور کے سابق ریسرچ اسسٹنٹ حافظ جاوید شوکت کو عرس مبارک اور عید میلاد النبیؐ کے موقع پر مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے باعث 43 لاکھ 18 ہزار 851 روپے ریکوری کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور 21 لاکھ 3 ہزار 265 روپے کی ریکوری کا سامنا ہے۔
اوکاڑہ کرپشن کیس میں ملوث سابق مینیجر اوقاف (برخاست شدہ) شفقت عباس کو 12 لاکھ 4 ہزار 780 روپے ریکوری اور 35 لاکھ 28 ہزار 181 روپے کی ریکوری کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
اسی کیس میں سابق رینٹ کلرک اور موجودہ جونیئر کلرک زوار حسین کو 12 لاکھ 4 ہزار 780 روپے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔
اوکاڑہ کرپشن کیس کے ایک اور ملزم سابق سینئر کلرک (برخاست شدہ) عامر ستار کو دو مختلف فیصلوں کے تحت 36 لاکھ 14 ہزار 341 روپے اور 71 لاکھ 11 ہزار 281 روپے کی ریکوری کی سزا سنائی گئی ہے۔
دربار حضرت بی بی پاک دامنؒ کے غلّے میں مبینہ کرپشن کے مقدمے میں سابق مینیجر اوقاف اور موجودہ آڈٹ آفیسر زاہد اقبال کو 53 لاکھ 86 ہزار 764 روپے کی ریکوری کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
دربار حضرت بابا بلھے شاہؒ کے نذرانے کی رقم میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں سابق مینیجر اوقاف اور موجودہ کمپیوٹر آپریٹر طارق محمود نجمی کو 13 لاکھ 18 ہزار 955 روپے ریکوری کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ اوقاف کے مطابق مذکورہ تمام افسران اور اہلکاروں نے چیف سیکرٹری پنجاب بطور اپیلیٹ اتھارٹی کے روبرو اپیلیں دائر کر رکھی ہیں جنہیں مروجہ قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق نمٹایا جائے گا۔