مودی کے بیرون ممالک دورے رسوائی کی علامت

دورہ آسٹریلیا کے دوران بھی مودی نے آسٹریلوی میڈیا کے سوالات سے گریز کیا


ویب ڈیسک July 14, 2026

مودی کے ذاتی مفاد کیلئے بیرون ممالک دورے سفارتی کامیابی کے بجائےعالمی تنقید کا نشانہ بننے لگے۔
 
عالمی میڈیا نے مودی کے غیر ملکی دوروں کو محض اندرون اور بیرونِ ممالک ذاتی تشہیر کا ذریعہ قرار دے دیا۔  

عالمی جریدہ الجزیرہ کے مطابق نیوزی لینڈ کے ایک صحافی نے سرکاری دورے کے دوران مودی سے میڈیا کا سامنا نہ کرنے پر سوال اٹھا دیا۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں مودی کا بیرون ممالک میڈیا کا سامنا نہ کرنے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

دورہ نیوزی لینڈ سے قبل دورہ آسٹریلیا کے دوران بھی مودی نے آسٹریلوی میڈیا کے سوالات سے گریز کیا، اس سے قبل  دورہ ناروے کے دوران صحافی ہیلے لنگ کا مودی سے براہِ راست سوال پہلی بار عالمی توجہ کا مرکز بن گیا  تھا، 2026 کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے۔

بھارتی صحافی  سنگیتا بروا پشاروتی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 11 سالوں میں بھارت میں صحافت کے نام پر گودی میڈیا نظام اب عالمی سطح پر بھی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے مودی کے عالمی اور مقامی میڈیا سے براہ راست سوالات سے گریز کو جواب دہی کا فقدان قرار دیا۔

بھارتی صحافی غزالہ وہاب کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوریت کی آڑ میں میڈیا کی آزادی سے اقلیتوں کے حقوق سلب کرنے تک ہر چیز کی اجازت ہے۔