ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائیں، تمام ٹول پلازہ اسی کو دیے گئے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے، این ایچ اے حکام کی کمیٹی کو بریفنگ


ویب ڈیسک July 14, 2026
فوٹو: فائل

اسلام آباد:

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائیں، تمام ٹول پلازے اسی کو دیے گئے۔

سید حفیظ الدین کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس   ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی وقت پر عدم تکمیل پر اظہار برہمی کیا گیا۔

این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ منصوبوں کے لیے بروقت فنانسنگ ملے تو منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں گے۔ منصوبوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر قسطوں میں بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ فنانسنگ یکمشت ادا نہیں کی جاتی۔

حکام نے اجلاس میں بتایا کہ ملک بھر میں 109 ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں۔ 90 ٹول پلازوں کی ٹینڈرنگ ہوگئی ہے۔ این ایل سی کو 10 ٹول پلازے دیے گئے ہیں اور باقی نجی کمپنیوں کے پاس ہیں۔

کنوینیئر کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائی ہیں اور سارے ٹول پلازہ اس شخص کو ملے ہیں۔ اخباروں میں آچکا ہے اور سندھ میں یہ بات عام ہے۔

اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ٹول پلازہ کی ٹینڈرنگ دستاویز طلب کرلیں۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات کو طلب کرلیا ۔

کنوینیئر کمیٹی  نے کہا کہ چیئرمین اور سیکرٹری نہ آئے تو ان کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ بعد ازاں کمیٹی نے سکھر حیدر آباد موٹروے اور پورٹ قاسم سے ایم نائن منصوبے کی تفصیلات طلب کرلیں۔