امریکا ایران کشیدگی سے خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی، سرمایہ کاروں میں تشویش

سعودی عرب کی بینچ مارک مارکیٹ میں بھی 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی


ویب ڈیسک July 14, 2026

دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث منگل کے روز خلیجی ممالک کی بیشتر اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار منفی رجحان کے ساتھ شروع ہوا۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کے باعث فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے اور دونوں ممالک کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی، جس کے اثرات خلیجی مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں طور پر دیکھے گئے۔

دبئی کی مرکزی شیئر مارکیٹ کا انڈیکس ایک فیصد سے زائد گر گیا، تاہم ملک کے بڑے بینک ایمریٹس این بی ڈی کے حصص میں تقریباً 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے مجموعی مندی کے باوجود کچھ حد تک مارکیٹ کو سہارا دیا۔

ابوظبی اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس بھی تقریباً 0.3 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا، جبکہ سعودی عرب کی بینچ مارک مارکیٹ میں بھی 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔

سعودی مارکیٹ میں الراجحی بینک کے حصص تقریباً 0.5 فیصد گر گئے، جس سے مجموعی انڈیکس پر دباؤ بڑھا۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث سعودی آرامکو کے حصص میں تقریباً 0.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل سے متعلق خدشات اور عالمی توانائی کی سپلائی کے خطرات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات نہ صرف خلیجی مالیاتی منڈیوں بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا، ایران اور خلیجی خطے میں ہونے والی پیش رفت پر مرکوز رہیں گی، کیونکہ یہی عوامل آئندہ مارکیٹ کے رجحان کا تعین کریں گے۔