ورلڈ کپ کے میچ نے دو ایئرلائنز کی دوستانہ شرط کو وائرل کردیا، سوشل میڈیا پر چرچا

برٹش ایئرویز اور نارویجن ایئرلائن کے درمیان ہونے والی دلچسپ شرط نے سوشل میڈیا کی توجہ حاصل کرلی


ویب ڈیسک July 14, 2026

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ نے ناروے کو 1-2 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ تو بنالی، تاہم میچ کے بعد سب سے زیادہ توجہ برطانیہ کی قومی ایئرلائن برٹش ایئرویز اور ناروے کی کم لاگت ایئرلائن نارویجن کے درمیان ہونے والی ایک دلچسپ سوشل میڈیا شرط نے حاصل کی، جسے دنیا بھر میں صارفین نے کھیل کے جذبے کی خوبصورت مثال قرار دیا۔

میچ سے قبل دونوں ایئرلائنز نے دوستانہ انداز میں طے کیا تھا کہ جس ملک کی ٹیم ہارے گی، اس کی ایئرلائن 24 گھنٹوں کے لیے اپنی انسٹاگرام پروفائل تصویر تبدیل کرکے مخالف ایئرلائن کا لوگو لگائے گی۔ انگلینڈ کی کامیابی کے بعد نارویجن نے اپنے وعدے کے مطابق برٹش ایئرویز کا لوگو اپنی پروفائل پر آویزاں کردیا، جس کے بعد یہ منفرد مہم سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

اس دلچسپ مقابلے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب نارویجن نے انسٹاگرام پر برٹش ایئرویز کو ٹیگ کرتے ہوئے شرط پیش کی کہ اگر ناروے کامیاب رہا تو برٹش ایئرویز اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرے گی، جبکہ انگلینڈ کی جیت کی صورت میں یہی کام نارویجن کرے گی۔ اس پر برٹش ایئرویز نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا، ’’ایسی شرط مت لگاؤ جو جیت نہ سکو۔‘‘ دونوں برانڈز کے درمیان یہ دوستانہ مکالمہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا صارفین، دیگر ایئرلائنز، ایئرپورٹس، ٹریول برانڈز اور مختلف معروف اکاؤنٹس کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

انگلینڈ کی فتح کے بعد نارویجن نے نہ صرف اپنی شرط پوری کی بلکہ برٹش ایئرویز کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ شاندار مقابلے پر مبارک ہو، اب ورلڈ کپ بھی اپنے نام کر کے دکھائیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امید ہے اس دوستانہ مقابلے سے دونوں اداروں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور ان کی سوشل میڈیا ٹیم اب برٹش ایئرویز کے دفتر آنا بھی پسند کرے گی۔

لوگو تبدیل کرنے کے بعد نارویجن نے ایک اور دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، ’’ذرا رُکیے... کیا اگلے 24 گھنٹوں تک لوگ ہماری ہر پوسٹ کو برٹش ایئرویز کی پوسٹ سمجھیں گے؟‘‘ اس ایک جملے نے ہزاروں صارفین کو محظوظ کیا اور اس پر بڑی تعداد میں مزاحیہ تبصرے سامنے آئے۔

دوسری جانب برٹش ایئرویز نے بھی کھیل کے مثبت جذبے کو سراہتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’90 منٹ کے لیے حریف، لیکن ہمیشہ کے لیے دوست۔‘‘ اس کے جواب میں نارویجن نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک یادگار مقابلہ تھا اور اب وہ انگلینڈ کو ورلڈ کپ جیتتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

24 گھنٹے مکمل ہونے پر نارویجن نے اپنی اصل پروفائل تصویر دوبارہ بحال کر دی، تاہم اس مختصر مگر تخلیقی سوشل میڈیا مہم نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی توجہ حاصل کر لی۔ مارکیٹنگ ماہرین کے مطابق ایک سادہ سی دوستانہ شرط نے دونوں ایئرلائنز کو ایسی عالمی تشہیر فراہم کی، جس کے لیے عام حالات میں کروڑوں روپے کے اشتہاری اخراجات درکار ہوتے۔ ان کے مطابق یہ مہم اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کھیلوں کے بڑے ایونٹس کو تخلیقی برانڈنگ اور صارفین سے مؤثر رابطے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس مہم پر صارفین نے بھی بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ ایک انسٹاگرام صارف نے اسے اب تک کی بہترین سوشل میڈیا کہانی قرار دیتے ہوئے دونوں ایئرلائنز اور اس میں شریک دیگر اداروں کو سراہا، جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ وہ چند ماہ بعد لندن جا رہی ہیں اور اس دلچسپ مہم نے انہیں قائل کر دیا ہے کہ اب وہ برٹش ایئرویز کے ذریعے ہی سفر کریں گی۔ برٹش ایئرویز ہالیڈیز نے بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک پورے ورلڈ کپ کا سب سے یادگار مقابلہ دونوں ایئرلائنز کے درمیان ہونے والی یہی دوستانہ شرط تھی۔