سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے کشمیر اینڈ گلگت افیئرز کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس

حکام نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں جنگلات مقامی کمیونٹی کی نجی ملکیت ہیں اور مالکانہ حقوق مکمل طور پر عوام کے پاس ہیں


ویب ڈیسک July 15, 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر اینڈ گلگت افیئرز کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ جنگلات گلگت بلتستان کے حکام نے فارسٹ لیز (ٹھیکیداروں) کی رجسٹریشن کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔

حکام نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں جنگلات مقامی کمیونٹی کی نجی ملکیت ہیں اور مالکانہ حقوق مکمل طور پر عوام کے پاس ہیں۔ جنگلات کے مالکان اور نجی ٹھیکیداروں کے درمیان 30 سے 40 سال پر محیط نجی معاہدے ہوتے ہیں، جنہیں حکومت باقاعدہ ریگولرائز کرتی ہے۔ معاہدے کے لیے 80 فیصد مقامی کمیونٹی کی رضامندی ضروری ہوتی ہے، جس کی توثیق ڈپٹی کمشنر کرتا ہے، جبکہ محکمہ جنگلات کا کردار ڈی سی کی اطلاع کے بعد شروع ہوتا ہے اور سائنسی منظوری کے بغیر کسی بھی ٹھیکیدار کو جنگل میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اجلاس میں سینیٹر ناصر بٹ اور کنوینئر فیصل رحمان نے ڈپٹی کمشنر کے کردار، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور فارسٹ ایکٹ 2019 کے تحت ٹھیکیداروں کی رجسٹریشن سے متعلق سوالات اٹھائے۔ محکمہ جنگلات نے بتایا کہ ڈی سی زمین کے ریکارڈ اور فریقین کی رضامندی کی جانچ کے بعد معاہدے کی توثیق کرتا ہے، جبکہ ڈی سی سے فائل موصول ہونے کے بعد محکمہ جنگلات کی جانب سے کوئی الگ رجسٹریشن نہیں ہوتی اور وہی تحریری معاہدہ سرکاری ریکارڈ تصور کیا جاتا ہے۔

ٹھیکیدار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ جنگلات کے مالکانہ حقوق اور لین دین مکمل طور پر مقامی لوگوں کا حق ہے اور حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدوں کے لیے ہزاروں مالکان کی رضامندی حاصل کی جاتی ہے، غریب مقامی افراد کو ایڈوانس رقم دی جاتی ہے اور بیماری، شادی و فوتگی کے مواقع پر مالی معاونت بھی کی جاتی ہے۔ نمائندوں نے شکایت کی کہ محکمہ جنگلات سخت شرائط، بھاری جرمانوں اور بلیک لسٹنگ کی دھمکیوں کے ذریعے مشکلات پیدا کرتا ہے، جبکہ محکمہ اپنی مرضی کے معاہدوں پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔

اجلاس میں 1993 میں جنگلات کی کٹائی پر پابندی، ورکنگ پلان، فیلنگ سیکونس اور متاثرہ ٹھیکیداروں کے مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ محکمہ جنگلات نے بتایا کہ 1993 میں کٹائی پر پابندی کے بعد پائیدار انتظام کے تحت ورکنگ پلان متعارف کرایا گیا، 2002 میں 10 سالہ پلان منظور ہوا، بعد ازاں 2013 کی سفارش پر اسے 30 سالہ پلان میں تبدیل کیا گیا، جس کی 2014 میں منظوری دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ جی بی کابینہ نے متاثرہ ٹھیکیداروں کے فیلنگ سیکونس میں تبدیلی کا اختیار محکمہ جنگلات کو دے رکھا ہے اور اب تک دو درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں سے ایک آخری مراحل میں ہے۔

ذیلی کمیٹی نے محکمہ جنگلات کو ہدایت کی کہ 1992 سے زیر التوا تمام متاثرہ کیسز کا جائزہ لینے کے لیے فوری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ کمیٹی نے 2002 کے اصل ورکنگ پلان اور موجودہ فیلنگ سیکونس کا تقابلی موازنہ بھی طلب کر لیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ ممکنہ طور پر سیکونس میں جان بوجھ کر ردوبدل کیا گیا۔ کمیٹی نے اس حوالے سے تحریری رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اجلاس میں غیر قانونی کٹائی، جرمانوں اور اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی۔ محکمہ جنگلات نے بتایا کہ غیر قانونی کٹائی پر مارکیٹ ریٹ سے تین گنا زیادہ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، گزشتہ تین برس سے 57 گاڑیاں اور ٹینکرز ضبط ہیں، جبکہ تمام چیک پوسٹوں کو ڈیجیٹائز کر کے 86 سی سی ٹی وی کیمروں کی لائیو مانیٹرنگ موبائل ایپ کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ کمیٹی نے ضبط شدہ گاڑیوں اور لکڑی کے ذخیرے کا موقع پر جا کر معائنہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

ٹھیکیداروں نے ون ٹائم پالیسی، بھاری جرمانوں، ٹرانسپورٹ پرمٹ، لکڑی کی منتقلی، کنڈمری ڈیم کے باعث نقصانات اور میاں ہدایت اللہ کی ایک لاکھ 80 ہزار فٹ لکڑی گزشتہ 10 برس سے روکے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سیکرٹری محکمہ جنگلات نے بتایا کہ اس معاملے میں مقامی تنازع تھا، تاہم سپریم کورٹ ٹھیکیدار کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے اور معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ بلیک میلنگ کی روک تھام کے لیے درخواست گزار پر مناسب فیس عائد کرنے کی پالیسی بنائی جائے تاکہ محض ایک درخواست پر کروڑوں روپے مالیت کا سامان نہ روکا جا سکے۔