بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو سترہواں دن، وزن ساڑھے 8 کلو کم ہوگیا

سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال نوجوانوں کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاجی دھرنے کی حمایت میں کر رہے ہیں


ویب ڈیسک July 14, 2026

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف جاری بھوک ہڑتال سترہویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔

مسلسل بھوکا رہنے کی وجہ سے وانگچک کے وزن میں تقریباً ساڑھے 8 کلوگرام کمی واقع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ مختلف سیاسی رہنماؤں نے ان سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال نوجوانوں کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاجی دھرنے کی حمایت میں کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے مستعفی ہوں۔

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ پرچوں کے مبینہ لیک ہونے سے ملک بھر میں لاکھوں طلبا کا مستقبل متاثر ہوا ہے، اس لیے اس معاملے پر شفاف تحقیقات اور ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ احتجاج وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے ایک غیر معمولی عوامی چیلنج کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف امتحانی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ بھارت کے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور احتساب کے مطالبات کو بھی مزید تقویت دی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنماؤں نے سونم وانگچک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی صحت کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کر دیں، تاہم وہ اب بھی امتحانی بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی اور جواب دہی کے مطالبے پر قائم ہیں۔