کراچی میں ملیر سٹی کے علاقے جھنڈا چوک محمدی کالونی یاسر عمار سوسائٹی کے قریب تیز دھار آلے کے وار سے شدید زخمی ہونے والے 35 سالہ سید عابد علی قادری نے دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق مقتول سید عابد قادری کا شدید زخمی حالت میں 12 جولائی کو ویڈیو بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں اس کا گلا کٹا ہوا اور پیٹ سے آنتیں باہر نکلی ہوئی تھیں، جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے سالے اسامہ اور دوست زبیر نے چھریوں کے وار سے زخمی کیا ہے۔
زخمی کو اس کے بھائی سید عرفان قادری تشویش ناک حالت میں فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچایا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
مقتول کی نماز جنازہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کی گئی اور اس موقع پر مقتول کے لواحقین ، رشتے داروں اور اہل محلہ کی جانب سے واقعے پر شدید غم و غصے کا بھی اظہار کیا گیا۔
ملیر سٹی پولیس نے واقعے کے بعد مقتول کے سالے اسامہ کو گرفتار کرلیا تھا تاہم اس کے دوست زبیر کی گرفتاری کے لیے پولیس کوششیں کر رہی ہے، ابتدائی طور پر واقعہ مقتول اور اس کی بیوی کے درمیان کسی تنازع پر پیش آنے کا بتایا جا رہا ہے جس کی پولیس مزید چھان بین کر رہی ہے۔
مقتول کے اہلخانہ نے اعلیٰ پولیس افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور واقعے کی غیر جانب دار تفتیش کر کے عابد کے قتل میں ملوث ملزمان کو سزا دلائی جائے۔
ملیر سٹی پولیس نے مقتول عابد قادری کو زخمی کرنے کا مقدمہ اس کے بھائی سید عرفان قادری کی مدعیت میں اقدام قتل کی دفعہ 324 چونتیس کے تحت درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کیا تھا تاہم عابد قادری کی ہلاکت کے بعد قتل کی دفعہ کو مقدمے میں شامل کیا جائے گا تاہم انویسٹی گیشن پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔