سپریم کورٹ کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں مقدمات کے بروقت فیصلوں میں نمایاں پیش رفت

زیرِ التوا مقدمات میں کمی کےلیے ہدفی کیس مینجمنٹ اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے فیصلوں میں تیزی لائی گئی


ویب ڈیسک July 15, 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں مقدمات کے بروقت فیصلوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جوڈیشل ریفارم ایکشن پلان کے تحت زیرِ التوا مقدمات میں کمی کے لیے ہدفی کیس مینجمنٹ، شواہد پر مبنی نگرانی اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے فیصلوں میں تیزی لائی گئی۔

سپریم کورٹ نے پرانے زیرِ التوا مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد کیا، جبکہ جان، آزادی، خاندانی حقوق، ٹیکس اور کرایہ داری سے متعلق مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر سنا جا رہا ہے۔ عدالتی اصلاحات کے نتیجے میں زیرِ سماعت مقدمات کی عمر میں نمایاں کمی آئی ہے۔

سپریم کورٹ نے سزائے موت کے مقدمات میں 11 سال کا بیک لاگ ختم کر دیا۔ اکتوبر 2024 میں سپریم کورٹ 2015 کے سزائے موت کے مقدمات سن رہی تھی، جبکہ جولائی 2026 تک 2026 میں دائر ہونے والے مقدمات کی سماعت شروع ہو گئی۔ اس عرصے کے دوران سزائے موت کی 608 اپیلوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 22 اپیلیں سال 2026 کی زیرِ التوا ہیں۔

قبل از گرفتاری ضمانت کے مقدمات میں بھی 6 سال کا بیک لاگ ختم کیا گیا۔ اکتوبر 2024 میں 2020 کے مقدمات زیرِ سماعت تھے، جبکہ جولائی 2026 تک 2026 کے مقدمات کی سماعت شروع ہو گئی۔ اس دوران قبل از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 156 درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 23 درخواستیں سال 2026 کی زیرِ التوا ہیں۔

سپریم کورٹ نے بعد از گرفتاری ضمانت کے مقدمات میں 17 سال کا بیک لاگ ختم کر دیا۔ اکتوبر 2024 میں بعد از گرفتاری ضمانت کے 2009 کے مقدمات زیرِ سماعت تھے، جو جولائی 2026 تک 2026 کے مقدمات تک پہنچ گئے۔ اس عرصے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی 2 ہزار 303 درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صرف 66 مقدمات سال 2026 کے زیرِ التوا ہیں۔

خاندانی مقدمات میں بھی زیرِ التوا کیسز میں نمایاں کمی آئی۔ سپریم کورٹ نے خاندانی مقدمات کی سماعت 2010 سے بڑھا کر 2026 تک پہنچا دی، اس دوران ایک ہزار 65 خاندانی مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ خاندانی مقدمات میں صرف 150 مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں 122 مقدمات سال 2026 کے ہیں۔

ٹیکس مقدمات میں ہدفی کیس مینجمنٹ کے ذریعے نمایاں پیش رفت حاصل ہوئی۔ سپریم کورٹ نے ٹیکس مقدمات کی سماعت 2011 سے بڑھا کر 2019 تک پہنچا دی، جبکہ اس عرصے کے دوران 506 ٹیکس مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹیکس کے 842 مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن میں 608 مقدمات سال 2025 اور 2026 کے ہیں۔

کرایہ داری مقدمات میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی۔ سپریم کورٹ نے کرایہ داری مقدمات کی سماعت 2011 سے بڑھا کر 2026 تک پہنچا دی، جبکہ کرایہ داری کے صرف 46 مقدمات سال 2026 کے زیرِ التوا ہیں۔

سپریم کورٹ جان، آزادی، خاندانی حقوق اور تجارتی استحکام سے متعلق مقدمات کو ترجیح دینے کے عزم پر قائم ہے۔