ہائبرڈ وارفیئر اورآپریشن شعبان

ان شاندار آپریشنل کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس مکارانہ پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر توڑ یہ ہے کہ ہم حقائق پر مبنی مضبوط پاکستانی بیانیے کو عام کریں


[email protected]

بلوچستان کے ہیبت ناک سنگلاخ کوہسار، وسعتوں پر پھیلی ہوئی دشوار گزار وادیاں، مکران کا تپتا ہوا ساحل اور چمن کے تزویراتی بارڈرز گواہ ہیں کہ یہ خطہ اب کسی روایتی لاء اینڈ آرڈر یا معمولی نوعیت کی علاقائی شورش کی آماجگاہ نہیں رہا۔ درحقیقت ارضِ پاک کا یہ حساس ترین حصہ اس وقت ایک نہایت بھیانک، ہائیبرڈ اور مربوط بین الاقوامی سازشوں کی زد میں ہے، جہاں پاکستان کی بقا کو چیلنج کرنے والی ایک ہمہ جہت جنگ پوری ہولناکی کے ساتھ لڑی جا رہی ہے۔

اس پاک مٹی پر بہنے والا بے گناہ انسانوں، معصوم شہریوں اور وردی میں ملبوس محافظوں کا خون کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی گہری سازش کا منہ بولتا ثبوت ہے جس کے تانے بانے براہِ راست سرحد پار، نئی دہلی اورہندوستان کی بدنام زمانہ انٹیلی جنس ایجنسی"را" اور صیہونی ریاست اسرائیل کی موساد سے ملتے ہیں۔

فتنہ الہندوستان جسے اسرائیلی پشت پناہی حاصل ہے، نے اپنے معاندانہ، ناپاک اور پاکستان دشمن عزائم کی تکمیل کے لیے ملک کے اس سب سے بڑے اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم ترین صوبے کو مستقل مشقِ ستم بنا رکھا ہے۔ یہاں سرگرم کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے ہم نوا دہشتگرد گروہ کوئی آزادی کے جنگجو یا حقوق کی تحریک نہیں بلکہ وہ بیرونی آقاؤں کے ٹکڑوں پر پلنے والے کرائے کے قاتل ہیں جنھیں پاکستان کی معاشی شہ رگ پر وار کرنے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے اور گوادر کی ابھرتی ہوئی بندرگاہ کو ناکام بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔

دشمن یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ اگر بلوچستان مستحکم ہو گیا تو پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ یا کمزور کرنے کا اس کا خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گا، اسی لیے وہ اپنے ان مقامی مہروں کے ذریعے صوبے کے غیور اور محبِ وطن عوام کو خوف و ہراس کے چنگل میں جکڑ کر ریاست کے خلاف صف آرا کرنے کی ایک گھناؤنی لیکن ناکام کوشش کر رہا ہے۔

یہ ایک ایسی کثیر الجہتی جنگ ہے جہاں پروپیگنڈا اور گولی دونوں کو ایک ساتھ ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے اندرونی استحکام کا شیرازہ بکھیرا جا سکے۔ اس مکارانہ کھیل کا سب سے خطرناک پہلو وہ گمراہ کن پروپیگنڈا اور فیک نیوز ہیں جن کا لبادہ اوڑھ کر یہ عناصر بلوچستان کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کا یہ زہریلا ایجنڈا اب پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست، حکومت اور مقتدر حلقے اس روایتی بیانیے، لگی لپٹی باتوں اور محض اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے مستقل طور پر باہر نکلیں۔ چند روز قبل بلوچستان کے پہاڑوں کے دامن میں قائم منگی ڈیم کی پولیس چیک پوسٹ پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردانہ حملے میں کم از کم 27 اہلکار شہید ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں، میری تحصیل رزڑ قاسم پلہ کا ایک نوجوان ماجد خان بھی شہید ہوئے اللہ رب العزت ماجد خان سمیت تمام شہداء کی شہادت قبول فرمائیں اور غمزدہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثمہ آمین یا رب العالمین۔

یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا تسلسل ہے، فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد اس قسم کے بزدلانہ حملے ایک تسلسل کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان حملوں کے بعد یہ بیانات بھی سننے کو ملتے ہیں کہ 20 دہشت گرد مارے گئے اور جواب میں ہمارے 10 جوان شہید ہو گئے، اس قسم کے بیانات کسی طور بھی ایک ریاست کے لیے درست، اور نہ ہی منصفانہ یا اطمینان بخش سودا نہیں ہو سکتا۔

ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ دشمن کے بیس، پچاس یا سو درندوں کی ہلاکت بھی ارضِ وطن کے ایک اکیلے وردی پوش جوان کے خون کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ ریاست اور عسکری قیادت کا بنیادی آئینی فرض، اصل کام اور اولین ترجیح ہر صورت اپنے جوانوں کی جانوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ صرف شہادتوں کے بعد تعزیتی بیانات اور قبروں پر سلامی اور قومی پرچم لہرانا۔ جب وطن کا کوئی ایک جوان بھی جامِ شہادت نوش کرے تو ریاست کے ایوانوں میں کہرام مچ جانا چاہیے، اس قومی نقصان پر اور سیکیورٹی و انٹیلی جنس کے طریقہ کار میں رہ جانے والی خامیوں پر فوری اور بے رحم بازپرس ہونی چاہیے۔

ہم مسلسل اپنے جوانوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں۔ ہم کب تک مصلحت پسندی، روایتی بیانات یا محض جذباتی تسکین کے لیے یہ راگ الاپتے رہیں گے کہ "ہمیں اپنے جوانوں کی شہادتوں پر فخر ہے"؟ فخر اپنی جگہ مسلم اور سر آنکھوں پر مگر اب ہمیں میدانِ جنگ میں اپنے آپریشنل طریقہ کار، حفاظتی پروٹوکولز، انٹیلی جنس نیٹ ورکس اور دفاعی حکمتِ عملی میں موجود خامیوں کو ہر قیمت پر درست کرنا ہوگا تاکہ دشمن ہمارے محافظوں پر سرپرائز وار کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر دشمن کو اس کے بلوں میں گھس کر مارنے اور سچائی کے ہتھیار سے اس کے بیانیے کو نیست و نابود کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سنگین پس منظر، کٹھن پیش منظر اور قوم کی اندرونی آواز کو سنتے ہوئے "آپریشن شعبان" کا آغاز ایک انتہائی بروقت، جرات مندانہ اور ناگزیر اقدام ہے جو سیکیورٹی فورسز کا وہ فیصلہ کن اور جارحانہ ردعمل ہے جس کی تائید اور کامیابی کے لیے پورا ملک دعا کر رہا ہے۔

آپریشن شعبان کے آغاز ہی سے سیکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹارگٹڈ اسٹرائیکس کے ذریعے دہشت گردوں کے مضبوط گڑھوں اور نام نہاد نوگوایریاز کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب تک اس آپریشن کے دوران متعدد اہم اور کلیدی کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں، جن میں کالعدم تنظیموں کے صفِ اول کے کئی کمانڈرز کی ہلاکت، ان کے خفیہ تربیتی مراکز کی تباہی اور جدید ترین غیر ملکی اسلحے و بارود کے بڑے ذخائر کا پکڑا جانا شامل ہے۔ فورسز نے ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور مفرور کیمپوں تک رسائی حاصل کی ہے جنھیں دشمن ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا۔ کئی حساس اضلاع کو دہشت گردوں کے تسلط سے چھڑا کر وہاں ریاست کی رٹ پوری طاقت کے ساتھ بحال کر دی گئی ہے، جس سے دشمن کا لاجسٹک اور کمیونیکیشن نیٹ ورک بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور وہ اب پسپائی پر مجبور ہے۔

ان شاندار آپریشنل کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اس مکارانہ پروپیگنڈے کا سب سے مؤثر توڑ یہ ہے کہ ہم حقائق پر مبنی مضبوط پاکستانی بیانیے کو عام کریں، سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے بلوچستان میں بدلتی ہوئی زندگیوں کو دنیا کے سامنے لائیں اور سوشل میڈیا پر ان دشمن عناصر کے جھوٹے پروپیگنڈے کو سچائی سے شکست دیں۔ ان ابتدائی کامیابیوں کے باوجود اس آپریشن کو محض روایتی کارروائی یا عارضی دباؤ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے منطقی انجام کا مطلب فتنہ الہندوستان کا جڑ سے مکمل، حتمی اور بے رحم صفایا ہونا چاہیے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس ناسور کے اصل ہینڈلرز، سرحد پار بیٹھے ماسٹر مائنڈز اور ان کے مقامی و علاقائی سہولت کاروں کا مکمل قلع قمع کیا جائے۔

سیکیورٹی اداروں کو اب کسی سیاسی مصلحت، گروہی دباؤ یا دائیں بائیں دیکھے بغیر ان درندوں کے پورے ایکوسسٹم کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا جو غیر ملکی فنڈنگ لے کر ملک کے اندر خودمختاری کو چیلنج کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اب ان اندرونی چہروں کو بے نقاب اور قانون کے کٹہرے میں لانے کا وقت ہے جو نام نہاد سیاسی و علاقائی جماعتوں کا لبادہ اوڑھ کر، یا انسانی حقوق کی پامالی کا جھوٹا راگ الاپ کر ان وحشی درندوں کی سیاسی، اخلاقی اور قانونی پشت پناہی کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے نام پر متحرک یہ مخصوص اور مشکوک ٹولہ معصوم شہریوں، بے گناہ مسافروں اور فرض شناس جوانوں کے بے دردی سے کیے جانے والے قتلِ عام پر تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے لیکن جیسے ہی ریاست ان قاتلوں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کرتی ہے یہ عناصر فوراً ان درندوں کے تحفظ، مظلومیت اور گمشدگی کا پروپیگنڈا کرنے کے لیے متحرک ہو جاتے ہیں۔

ان دوغلے، ضمیر فروش اور ریاست مخالف عناصر کو قانون کی گرفت میں لانا اب قومی بقا کا معاملہ بن چکا ہے کیونکہ یہ آستین کے سانپ سیکیورٹی فورسز کے خلاف زہریلا بیانیہ بنا کر دراصل دشمن کے پروپیگنڈا ونگ اور ففتھ جنریشن وارفیئر کے مہروں کا کام کرتے ہیں۔ قوم شہدا کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیتے ہوئے، دشمن کی ہر سازش کو خاک میں ملا کر اس پاک دھرتی سے فتنہ و فساد کا نام و نشان ہمیشہ کے لیے مٹا کر دم لے گی۔