رنگ روڈ اراضی این او سی اسکینڈل کیس: راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا این او سی منسوخی کا فیصلہ بحال

راولپنڈی ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے رنگ روڈ اراضی این او سی اسکینڈل کیس کی سماعت کی


ویب ڈیسک July 16, 2026

راولپنڈی ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس سردار اکبر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے رنگ روڈ اراضی این او سی اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت درخواست گزار نے اپنی بنیادی پٹیشن اور تمام اعتراضات واپس لے لیے، جس کے بعد راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کا این او سی منسوخی کا فیصلہ بحال ہو گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنی پٹیشن واپس لیتے ہیں، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ پٹیشن واپس لینا درخواست گزار کا حق ہے، لہٰذا استدعا منظور کی جاتی ہے۔

پٹیشنر نے رنگ روڈ کے اطراف 102 کنال 14 مرلہ اراضی کے حصول میں اپنی تکنیکی غلطی بھی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ سنگل بنچ نے آر ڈی اے کا جواب لیے بغیر ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

پٹیشن کے مطابق آر ڈی اے نے شہری مظہر رحیم کو 102 کنال 14 مرلہ اراضی الاٹ کی تھی، جہاں پٹرول پمپ، مسجد، سیاحتی بینچز اور دونوں اطراف سروس ایریا تعمیر کیا جانا تھا، تاہم آر ڈی اے نے بیک ڈیٹ میں اراضی الاٹمنٹ کی منظوری منسوخ کر دی، جسے مظہر رحیم نے عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سنگل بنچ نے این او سی بحال کر دیا تھا۔

بعد ازاں آر ڈی اے اور رنگ روڈ پراجیکٹ نے اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلیں دائر کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ اراضی کی منسوخی کا فیصلہ درست تھا۔

اسکینڈل میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ڈی جی آر ڈی اے، ریونیو ڈی سی سمیت پانچ افسران معطل ہوئے تھے، جبکہ پٹیشن واپس لینے کے بعد ان کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہو گئی۔ عدالت نے پٹیشن اور تمام انٹرا کورٹ اپیلیں نمٹا دیں۔