وفاقی آئینی عدالت نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نابالغ بچوں کے مقدمات میں سرپرست کی تقرری لازمی قرار دے دی۔
عدالت نے کہا کہ نابالغ بچوں ،ضعیف افراد،پردہ نشین خواتین کے مقدمات میں سمجھوتہ عدالتی جانچ پڑتال سے مشروط ہوگی، کسی بھی مقدمے کے آغاز پر ہی کم عمر فریق کا تعین کیا جائے گا، کم عمر کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر فیصلے نہیں کیا جائے گا۔
عدالت کے مطابق کم عمر افراد کیلئے ذاتی مفاد نہ رکھنے والے کو سرپرست مقرر کیا جائے گا، نابالغ سے متعلق ملکیت کے تنازعہ میں غیر ضروری عجلت نہیں کی جائے گی۔
آئینی عدالت کے فیصلے کی نقول تمام سول /ریوینیو کورٹس کو بھجوانے کا حکم دیا، عدالت نے کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کردیا، عدالت نے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ کی کاروائی چلانے کی ہدایت کردی ۔
مقدمہ میں سول کورٹ کے سمجھوتہ کی بنیاد پر کئے گئے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا، درخواست گزار نے نابالغ بچوں کے حقوق کے تحفظ نہ ہونے کا موقف اپنایا تھا۔
20 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریر کیا۔